چِلی کا آتش فشاں پِھر جاگ پڑا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2840 میٹر اونچا یہ آتش فشاں سیّاحوں میں بہت مقبول ہے اور ہر سال موسمِ گرما میں سینکڑوں لوگ چوٹی پر جا کر اس کی دہانے سے اندر جھانکتے ہیں

چِلی کے جنوب میں واقع ویّاریکا آتش فشاں جو 3 مارچ کو پھٹ پڑا تھا ایک بار پھر متحرّک ہو گیا ہے اور اس نے راکھ اگلنا شروع کر دی ہے۔

حکام نے آتش فشاں کے قریبی علاقوں میں خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے الرٹ کا لیول آرنج کر دیا ہے جو ریڈ الرٹ سے ایک درجہ نیچے ہے۔

علاقے میں مخلتف تعلیمی ادروں میں زیر تعلیم 5500 سے زائد طلبا کی کلاسیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں اس آتش فشاں نے 1000 میٹر کی بلندی تک لاوا اور راکھ اڑائی اور ہزاروں لوگوں کو علاقے سے نکلنا پڑ گیا تھا۔

2840 میٹر اونچا یہ آتش فشاں سیّاحوں میں بہت مقبول ہے اور ہر سال موسمِ گرما میں سینکڑوں لوگ اس کی چوٹی پر جا کر اس کی دہانے سے اندر جھا نکتے ہیں۔

3 مارچ کو ہونے والی آتشی بارش میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم ماضی میں اس آتش فشاں سے ایسا ہو چکا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بیسویں صدی کے دوران 100 سے زائد افراد اس آتش فشاں کی ڈھلان پر سے بہنے والی مٹی کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

یاد رہے کہ تین برس قبل چلی کے آتش فشاں پہاڑ سے اٹھنے والے راکھ کے بادل ملک کے جنوبی حصے میں پھیل گئے تھے اور اس وجہ سے آ‎سٹریلیا کے دو بڑے ہوائی اڈے متاثر ہو گئے تھے اور وہاں سے اڑتالیس گھنٹوں کے لیے پروازیں متاثر رہی تھیں۔

اس وقت میلبرن اور سڈنی کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے علاوہ آسٹریلیا کو ایڈیلیڈ کا ہوائی اڈہ بھی بند کرنا پڑ گیا تھا۔

پروازوں کے بندش سے ہزاروں مسافر پھنس گئے تھے اور چلی کے آتش فشاں پہاڑوں سے ابھرنے والے راکھ کے بادلوں کی وجہ سے طیاروں کو خاصی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں