لندن میں نسلی تعصب کے خلاف ریلی

Image caption ریلی میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی

برطانیہ کے درالحکومت لندن میں نسلی تعصب اور ملک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا یعنی اسلام مخالف جذبات کے خلاف نکالی گئی ریلی میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔

سنیچر کو اس ریلی کا اہتمام نسلی تعصب کے مخالف گروپوں کے اتحاد ’سٹینڈ اپ ٹو ریسسززم‘ جس میں مزدور یونینز، طلبہ اور دیگر تینظمیں شامل ہیں نے کیا تھا۔

اس موقعے پر ریلی کے بارے میں سٹینڈ اپ ٹو ریسسززم کے رابطہ کار ڈینس فرنینڈز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’اس ریلی کا مقصد تارکینِ وطن کا اس ملک کی ترقی کے سلسلے میں جو مثبت کردار ہے اس کو اجاگر کرنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تارکینِ وطن کے بارے میں منفی چیزوں کو تو اجاگر کیا جاتا ہے مگر ان کے مثبت کردار کو اکثر وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے کو ملنی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مسرت سلیم کے والد کو برمنگھم میں ایک نسل پرست نے قتل کر دیا تھا

نسلی تعصب کے خلاف نکالی گئی اس ریلی میں سنہ 2013 میں برمنگھم میں ایک سفید فام نسل پرست کے ہاتھوں قتل ہونے والے 82 سالہ پاکستانی نژاد محمد سلیم کی بیٹی مسرت سلیم بھی شامل تھیں۔

مسرت سلیم کا کہنا تھا کہ ’میرے والد کو مسجد سے گھر جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا، مسلمانوں کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں، اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو رہا ہے اور ابھی تک مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں، ہم سب کو مل کر نسل پرستی کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔‘

ریلی میں شریک افراد نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقعے پر کچھ لوگوں نےگانے گا اور رقص کر کے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

مظاہرے میں شریک شرلی نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’میں برسٹل سے سفر کر کے اس مظاہرے میں شرکت کرنے آئی ہوں کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ نسل پرستی اور مسلم مخالف جذبات کی ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، پورے ملک سے لوگ اس ریلی میں شریک ہیں اور برطانیہ کی عوام کی اکثریت نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خلاف ہے۔‘

واضع رہے کہ ریلی کا آغاز بی بی سی لندن کے دفاتر کے باہر سے ہوا اور یہ وسطی لندن کے مخلتف راستوں سے ہو تے ہوئے ٹریفالگر سکوائر پر ختم ہوئی جہاں مقررین نے خطاب بھی کیا۔

اسی بارے میں