چین، کوریا اور جاپان تین سال بعد مذاکرات کی میز پر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بائیں جانب چین کے وزیرِخارجہ وانگ یی اور دائیں جانب جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ یون بیانگ کھڑے ہیں

چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ تین برس میں پہلی بار مذاکرات کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں سنیچر کو ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد علاقائی کشیدگی اور تینوں ممالک کے درمیان موجود سفارتی تنازعات پر بات چیت کرنا ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی کوریا، چین اور جاپان کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات ہیں تاہم دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کے کردار کے بعد سے اب تک تینوں ممالک کے درمیان تصفیہ طلب معاملات کے باعث باہمی تناؤ اب بھی موجود ہے۔

چین کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مذاکرات مستقبل میں آگے بڑھنے کے لیے سود مند ثابت ہوں گے۔

مذاکرات کی میز پر چین کے وزیرِخارجہ وانگ یی، جنوبی کوریا کے یون بیانگ سے اور جاپان کے وزیرِ خارجہ فومیو کشیدہ موجود ہوں گے۔

تینوں وزرائے خارجہ اس سے قبل اپریل 2012 میں ملے تھے اور وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی یہ چھٹی ملاقات ہوگی۔

لیکن اس کے بعد تینوں ممالک کے خارجہ تعلقات کے لیے کوئی ملاقات نہ ہونے کی وجہ جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے کی ناراضگی تھی۔

کیونکہ چین اور جنوبی کوریا نے جاپان کی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار کا دورہ کیا جن میں مبینہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث لوگ بھی شامل تھے۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان نے جزیرہ نما کوریا اور چین کے چند حصوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا جس کے جواب میں دونوں ممالک نے ٹوکیو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنی جارحیت کی مناسب انداز میں تلافی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

سئیول میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو ایون کے مطابق اب بھی تینوں ممالک میں اختلافات ہیں تاہم تین سال پرانی ناراضگی ختم ہوچکی ہے اور لیے باضابطہ مذاکرات کے لیے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی کوشش کی گئی ہے۔

تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی طے شدہ ملاقات سے اب یہ امید بھی بڑھ گئی ہے کہ تینوں ممالک کے سربراہان کا رواں سال کے اختتام پر اجلاس منعقد ہو سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ruters

جاپان اور چین کے کشیدہ مذاکرات امریکہ کے لیے بھی باعثِ تشویش تھے کیونکہ ان دونوں ممالک کا شمار امریکہ کے فوجی اتحادیوں میں ہوتا ہے۔

سنیچر کو یہ تینوں ممالک ایک ایسے وقت میں مل رہے ہیں جب چند ہی دن پہلے چین اور جاپان نے چار سال بعد سکیورٹی مذاکرات کیے ہیں۔

ان مذاکرات کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے ایجنڈے پر مشرقی چین کے سمندر میں موجود جزیروں کا تنازع، دونوں ملکوں کے درمیان ہاٹ لائن اور بحریہ کے درمیان تعاون اور رابطوں پر بات چیت شامل تھی۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سالوں میں جاپان کے سنکاکو اور چین کے ڈیاویو کے جزیروں پر تنازع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جاپان کے لیے موافق نہیں جو سمجھتا ہے کہ اسے ’اپنے مشترکہ دفاع‘ کے لیے فوج کا استعال کر سکتا ہے تاہم چین نے اس پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ کہہ کر وہ فوج کو دوبارہ مسلح کر رہا ہے۔

اسی بارے میں