کوسوو کے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کوسوو کے لوگ ملک کے اقتصادی حالات کی وجہ سے ملک چھوڑنا چاہتے ہیں

کوسوو کے شمالی شہر مترویکا کے 7 آرٹ کیفے میں ماحول بظاہر خوشگوار نظر آتا ہے۔

کیفے کے اندر مختلف رنگوں کی روشنیاں جگمگا رہی ہیں۔ البانوی اور انگریزی زبان کے نغمے بج رہے ہیں اور ایک میز کے ارد گرد تقریباً بیس افراد بیٹھے ہیں جو خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔

لیکن اس ہنسی اور قہقہوں کے پیچھے ایک ایسی سچائی ہے جس سے یہ لوگ دور بھاگنا چاہتے ہیں۔

کوسوو نے سات برس قبل یک طرفہ فیصلے کے تحت سربیا سے اپنے آپ کو آزاد قرار دے دیا تھا لیکن اس کے حالات بہت خوشگوار نہیں ہیں۔

کوسوو میں روزگار ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں دس میں چھ نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔ حالانکہ بوسنیا میں حالت بہت زیادہ ابتر ہیں اور وہاں پورے خطے میں بےروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

پورے یورپ میں کوسوو میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہے۔ یہاں کی آبادی کے نصف سے زیادہ لوگوں کی عمر پچیس برس سے کم ہے جس کے وجہ سے حالات مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔

ان ہی حالات کا شکار 7 آرٹ کیفے بھی ہے۔ آج کل یہ شاد و نادر ہی کھلتا ہے- اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یا تو یہاں آنے والے 50 سینٹ کی کافی نہیں خرید پاتے یا پھر پوری شام یہاں گزارنے کے لیے ان کے پاس ایک جام خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ اس برس کے اوائل سے اب تک کیوں ہزاروں کوسوو افراد بس کے ذریعے طویل سفر طے کرکے، غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرکے یورپی یونین کے مختلف ممالک میں داخل ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کوسوو کے لوگ گروپوں کی شکل میں غیر قانونی طریقے سے مغربی یورپ کے ملکوں کی طرف جا رہے ہیں

7 آرٹ کیفے میں بیٹھی ایک بائیس سالہ لڑکی آرڈیٹا جیرگیکو کا کہنا ہے ’افسوس ہے کہ لوگ ایسا کررہے ہیں لیکن اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ وہ تو صرف بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔‘

آرڈیٹا کوسوو کے خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہے۔ اس کے پاس ایک نوکری ہے۔ وہ دارالحکومت پرسٹینا میں مارکیٹنگ کے شعبے میں ملازم ہیں۔

لیکن وہ بھی ملک سے باہر کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔ وہ انگریزی زبان سیکھ رہی ہیں اور امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹی میں سکالرشپ کے لیے درخواستیں بھیج رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ کوسوو کے لوگ بہت صحت مند ہیں اور ان میں کام کرنے کی بہتر صلاحیات ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’افسوس ہے کہ وہ اپنی یہ طاقت اور صلاحیت یہاں استمعال نہیں کرسکتے ہیں۔‘

کیفے میں موجود دیگر افراد بھی انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں تاکہ وہ بیرونی ممالک میں آسانی سے ملازمت حاصل کرسکیں۔

7 آرٹ کیفے کے بانی للزم ہوتی کا کہنا ہے ’بیشتر افراد یہی سمجھتے ہیں کہ ملک سے باہر جانا ہی مسئلے کا حل ہے کیونکہ یہاں رہ کر وہ یا تو نوکریاں نہیں حاصل کرسکتے ہیں اور یا ان کو تنخواہیں اچھی نہیں ملتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’ لوگوں کو یقین ہے کہ کوسوو سے باہر زندگی آسان ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بے روزگاری اور خراب معاشی حالات کے باعث عوامی احتجاج بھی ہوتے رہتے ہیں

للزم جیسے بہت سارے افراد کا اتنی بڑی تعداد میں ملک چھوڑنا کیا کسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تو نہیں ہے۔

لیکن وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ نوجوان لوگوں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ صرف اس افواہ کی بنیاد پر بھی لاکھوں لوگوں نے اپنا بوریا بستر باندھ لیا ہوگا کہ اس ملک سے نکلنا ممکن ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ کسی بھی قید خانے میں اگر آپ کو ایک کھڑکی بھی کھلی مل جائے تو آپ بھاگ جا‎ؤگے نا۔۔۔‘

کوسوو کے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ ان کے لیے بیشتر بیرونی ممالک میں ویزا کے حصول میں درپیش دقتوں کے پیشر نظر جانا مشکل ہے۔

اسی لیے نوجوانوں کے لیے بیرونی ممالک جانا مشکل صحیح لیکن پرکشش متبادل ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اب بہت جلد وہ افراد واپس آجائیں گے جو روشن مستقبل کی امید میں ملک کے چھوڑ کر گئے تھے۔

بہت سے یورپین یونین کے ممالک کہہ چکے ہیں کہ چونکہ کوسوو کو وہ محفوظ ملک تصور کرتے ہیں اس لیے وہ وہاں کے کسی بھی شخص کی ’سیاسی پناہ‘ کی عرضی قبول نہیں کریں گے اور واپس انہیں ان کے ملک بھیج دیا جائے گا۔

کوسوو کے مرکزی وزیر بیکم کولاکو کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ ملک چھوڑ کر گئے ہیں انہیں واپس آنا پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نوجوان لوگوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ ملک سے باہر نہ جائیں، اپنے ملک میں رہ کر یہاں کے حالات بہتر کریں۔ آپ کی صلاحیتوں کی ملک کو ضرورت ہے۔‘

ملک کی نوجوان نسل ملک کی قیادت اور سیاسی طبقے سے ناراض ہے اور وہ اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

پرسٹنیا میں ایک اہم سرکاری عمارت کی کھڑکیاں جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے کئی ہفتےگزر جانے کے بعد بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔

کوسوو کے لوگوں کو حال ہی میں جلد بازی سے کی گئی نجی کاری کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جو سرکاری شعبے میں چلنے والے صنعتی یونٹس کے لیے تباہ کن اور چند انتہائی بااثر سیاسی لوگوں کی ذاتی دولت میں اضافے کا باعث بنی ہے۔

کوسوو میں بہت سے لوگ یورپی یونین کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے ملک میں کچھ مثبت تبدیلی لانے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ پرسٹینا میں برسلز کا سب سے بڑا بیرونی مشن ہے لیکن یورپی یونین اور اس کے بعض ممبران ممالک پر اس بات کی وجہ سے تنقید ہوتی ہے کہ وہ کوسوو کے سیاست دانوں کو ملک کے حالات کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے اور ان سے حساب لینے کے بجائے ان کی دل جوئی کرتے ہیں۔

گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں جیت ان ہی لوگوں کی ہوئی جو پہلے بھی اقتدار میں تھے، لیکن یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہاں ترقی ممکن ہے۔

پرسٹنیا میں یورپی یونین کے معاشی شعبے کے سربراہ ٹام گوچی کا کہنا ہے ' ہمیں نئی حکومت کو اس کی نئی پالیسیوں کا اعلان کرنے کے لیے ایک موقع دینا ہوگا'۔

اگر نئی حکومت کسی مثبت پالیسی کا اعلان کرتی ہے تو نوجوان افراد اس کا استقبال کریں گے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کوسوو کی نوجوان نسل کا صبر کا پیمانہ چھلک رہا ہے اور آرڈیٹا جیسے لوگ معاملات اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔

آرڈیٹا کا کہنا ہے کہ ’میں باہر کے کسی ملک سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرکر واپس اپنے ملک آؤں گی، اپنی کمپنی سیٹ کروں گی لوگوں کو تربیت دوں گی تاکہ ہم اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔‘

ایسا لگتا ہے کہ کوسوو جب تک اس لائق ہو کہ وہ لوگوں کو بہتر زندگی کی امید دے سکے اس سے قبل بہت سے ہونہار افراد بیرونی ممالک جا چکے ہوں گے۔