’یمن ایک طویل خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ یہ خیال ایک سراب ہے کہ شیعہ حوثی باغی پورے ملک کو کنٹرول کر سکتے ہیں

یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے خبردار کیا ہے کہ یہ ملک بھی شام، عراق اور لیبیا کی طرح ایک طویل خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

جمال بونیمور نے یہ بات اتوار کو نیویارک میں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہی۔

یہ اجلاس یمن کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی درخواست پر بلایا گیا جس میں ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

یمنی صدر نے فروری میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شہر چھوڑ دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ یہ خیال ایک سراب ہے کہ شیعہ حوثی باغی پورے ملک کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر ہادی بھی ایسی فوج جمع نہیں کر سکتے جو اقتدار کے دوبارہ حصول کے لیے ان کی مدد کر سکے۔

شیعہ باغی یمنی صدر کو سعودی عرب اور قطر کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہوا ہے جب یمن کے مقامی میڈیا کے مطابق سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی شیعہ باغیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز پر قبضہ کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حوثی باغیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ملک میں القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں تیزی لا رہے ہیں۔

حوثی باغیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ملک میں القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں تیزی لا رہے ہیں۔

مقامی میڈیا نے ملک کے سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار کو تعز کے ہوائی اڈے سمیت شہر کے مختلف علاقے حوثی باغیوں کے کنٹرول میں تھے۔

تعز پر قبضہ شیعہ باغی گروہ حوثی قبائل کی جانب سے موجودہ صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی حامی فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد ہوا ہے۔

یمنی صدر نے دارالحکومت سے نکل جانے کے بعد اپنے پہلے قومی خطاب میں اتوار کو حوثی باغیوں کو چیلنج کیا تھا۔

ادھر امریکہ نے یمن میں سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں موجود متحارب باغی گروہوں جن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں کا تشدد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں