علاج سے انکار پر بچے کے والدین جیل میں

Image caption آشیا کو دورانِ علاج لندن سے بیرونِ ملک لے جانے پر والدین کو جیل جانا پڑا تھا

پانچ سالہ بچے آشیا کنگ کے والدین کے مطابق ان کا بیٹا کینسر کے علاج سے چھٹکارا پاچکا ہے۔

آشیا کنگ کے والدین گرِٹ کنگ اور نغیمے کو سپین کے دارلحکومت میڈرڈ میں اس الزام میں جیل میں بند کر دیا گیا تھا کہ انھوں نے ڈاکٹروں کی تجویز کے خلاف وہ اپنے بیمار بچے کو برطانیہ کےساؤتھیمپٹن ہسپتال سے پراگ لے جانے کی کوشش کی تھی۔

بچے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان کے دماغ میں رسولی ہے تاہم ان کے والد نے اخبار سن نیوز کو بتایا کہ بچے کے دماغ میں رسولی کے شواہد نہیں ملے۔

آشیا کے والدین نے برطانیہ کے ساؤتھیمپٹن ہسپتال میں گذشتہ سال اگست میں بچے کی بیماری کے علاج کے طریقہ کار پر ڈاکٹر کے ساتھ اختلاف کے بعد اسے پروٹون تھراپی کے لیے بیرونِ ملک لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم والدین ابھی بیمار بچے کو لے کر سپین کے دارلحکومت میڈرڈ ہی پہنچے تھے کہ برطانوی حکام کی درخواست پر انھیں میڈرڈ کی ایک جیل میں بند کر لیا گیا۔

اس جوڑے کو 24 گھٹنے سے زائد وقت تک زیرِحراست رکھا گیا اور جب برطانیہ نے ان کی حوالگی کا مطالبہ واپس لے لیا تو سپین کے حکام نے انھیں رہا کر دیا۔ بیمار بچے کے والدین کے وکیل کا موقف تھا کہ بچے کی زندگی کے بارے ابتدا میں جیسا خیال ظاہر کیا تھا اس حد تک اسے فوری اور بڑا خطرہ نہیں۔

پانچ سالہ بچے آشیا میں میڈولا بلاسٹوما نامی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جو دماغی رسولی کی ایک قسم ہے۔

دماغ کی رسولی کو ختم کرنے کے لیے گذشتہ سال 24 جولائی کو ساوتھیمپٹن کے ہسپتال میں موجود سرجنوں نے ان کا کامیاب آپریشن کیا تھا۔

تاہم 22 اگست کو ان کے دماغ کے مزید آپریشن ہونا باقی تھے۔ آپریشن کے بعد وہ نہ تو بچہ بول سکتا تھا نہ ہی کچھ کھا پی سکتا تھا اور اسے کو خوراک دینے کے لیے کے لیے نلکی لگا دی گئی تھی۔

بچے کو دوبارہ رسولی سے بچانے کے لیے ان کے والدین یہ چاہتے تھے کہ اس کا علاج پروٹون بیم تھیراپی کے ذریعے بھی کرائیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے پاس پروٹون کی شعاعوں کے ذریعے کینسر کے علاج کا یہ طریقہ دستیاب نہیں ہے تاہم وہ اپنے مریضوں کوعلاج کے لیے بیرونِ ملک موجود ہسپتالوں رجوع کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔

اس طریقہ علاج میں شعاعوں کے ذریعے صرف بیماری سے متاثرہ ٹشوز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یونیورسٹی ہسپتال ساؤتھیمپٹن کے این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کا موقف تھا کہ آشیا کے علاج کے دوران صحت مندی کے حوالے سے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں اور پروٹون ریڈیو تھیراپی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔

ڈاکٹر پِیٹ ولسن جو ہسپتال بچوں کے امراض کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایاتھا کہ ’بچے کے علاج سے انکار کرنا غیر معمولی طور پر تشویش ناک ہے۔ یہ ایک چھوٹا لڑکا ہے جسے اگر تیزی سے علاج فراہم کیا جائے تو اس کے زندہ رہنے کا بہت ہی اچھا موقع ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بچے کو والدین کی جیل سےرہائی کے چھ دن بعد نو ستمبر کو چیک رپبلک لے جایا گیا

لیکن گرِٹ کنگ اور ان کی اہلیہ بچے کو لے کر سپین میں موجود گھر چلے گئے جہاں سے انھوں نے چیک رپبلک کےدارالحکومت پراگ کے پروٹون تھیراپی سینٹر میں بچے کے علاج کا انتظام کیا۔ جب وہ سپین میں 24 گھنٹے سے زائد وقت کے لیے قید کیے گئے تو اس دوران بچے کو ہسپانوی شہر مالقہ کے ایکہسپتال میں علاج کی سہولت دی گئی۔

ادھر پروٹون تھیراپی سینٹر نے گذشتہ ستمبر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ساؤتھیمپٹن ہسپتال نے انھیں آشیا کے مکمل طبی رپورٹ بھجوائی ہے جس کے مطابق پروٹون تھیراپی سے قبل انھیں کیموتھراپی کے دو مراحل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔

بچے کو والدین کی جیل سےرہائی کے چھ دن بعد نو ستمبر کو چیک رپبلک لایا گیا۔

بچے کےوالد نے سن نیوز کو بتایا کہ ان کا بیٹا سپین میں موجود ان کے گھر میں ہے اور کینسر کے مرض سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب آشیا نے پھر سے بولنا شروع کر دیا ہے اور وہ گھر کے قریبی پارک میں اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ کھیل سے لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔

’یہ ایک بہت ناقابلِ یقین خبر ہے۔ بلاشبہ ہم بہت خوش ہیں۔ اس نے ہر اس چیز کو صحیح ثابت کر دیا ہے جس سے ہم گزرے کیونکہ آشیا کے لیے سب کچھ اچھا ہو رہا ہے۔‘

اسی بارے میں