لذیذ مگر جان لیوا غذا کی جستجو

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کے گوشت میں ایبولا کے مرض کا وائرس پایا جاتا ہے

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جنگلی جانوروں کا گوشت موجودہ ایبولا کی وبا کا ذمہ دار ہے۔ اسی لیے ایک سال قبل سیرالیون نے جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پابندی کارآمد ثابت ہورہی ہے؟

بوڑھا آدمی ہرن کے بچے کی آواز نکال رہا تھا جیسے وہ تکلیف میں اپنی ماں کو بلارہا ہو۔ پھر اس تجربہ کار شکاری نے اپنی چھڑی کو ایک بندوق کی طرح پکڑتے ہوئے اس سمت اشارہ کیا جس طرف وہ یہ آواز دے رہا تھا۔

پھر اس نے سرگوشی کر کے مجھے کہا کہ ’جب وہ میرے پاس آئے گی تو میں اسے مار دوں گا۔‘

میں سیرالیون کے مغربی قصبے کبالا سے تقریباً دوگھنٹے کی مسافت پر واقع وارا وارا کے خوبصورت پہاڑی سلسلے میں تھا۔

وہاں پر میری ملاقات روایتی شکاریوں کے ایک گروہ سے ہوئی جو مجھے بتا رہے تھے کہ کیسے سیرالیون میں ایبولا کے پھیلنے کے خدشے کے پیشِ نظر شکار پر لگائی گئی پابندی کام نہیں کر رہی۔

خیال رہے کہ جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی گزشتہ برس لگائی گئی تھی۔

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کے گوشت میں ایبولا کے مرض کا وائرس پایا جاتا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ کبھی کبھار یہ انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ منتقلی کی وجہ شاید انسانوں کا جنگلی جانوروں کے خون سے رابطے میں آنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیرالیون کی دہی آبادی اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جنگلی جانوروں کے گوشت پر انحصار کرتی ہے

سیرالیون میں مقیم جنگل اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہر ’بالا اماراساکن‘ کا کہنا ہے کہ ’ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا کہ جنگلی جانوروں کے گوشت میں ایبولاکا وائرس رہتا ہے سائنسی بنیاد پر درست ہے اسی لیے حکومت نے جنگلی جانوروں کے گوشت کی خریدوفروخت اور شکار پر پابندی لگائی ہے اور میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔‘

وزیرِ زراعت نے مجھے بتایا کہ جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی ابھی بھی لاگو ہے اور یہ کافی حد تک کارآمد بھی ہے۔

لیکن وارا وارا میں جن شکاریوں سے میری ملاقات ہوئی تھی وہ یقیناً اب بھی سرگرم تھے۔

سیرالیون کے لوگ بیک وقت سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بظاہر وہ کسی متنازع موضوع کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہوں گے مگر وہ جان بوجھ آپ کو دیکھ کر مسکرائیں گے بھی تاکہ آپ اندازہ لگا لیں کہ کیا سچ اور کیا جھوٹ ہے۔

ایک شکاری جس سے میری ملاقات ہوئی نے مجھے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پابندی کے فیصلے کے بعد سے اس نے شکار کرنا چھوڑ دیا ہے۔

لیکن جب میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں اس کے نام اور مقام کے بارے میں کسی کو نہیں بتاوں گا تو آخر کار اس نے سچ اگل ہی دیا۔

پھر اس نے مجھے جانوروں کو پکڑنے کے لیے حال ہی میں بچھائے گئے جال اور ہرن اور جنگلی بکری کا تازہ گوشت دکھایا۔

روایتی شکاریوں کو سیرالیون کے معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیرالیون کے روایتی شکاری انتہائی ہنر مند اور اعلی پائے کے شکاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایبولا کی وبا کے ذمہ دار شکاری نہیں غیرموثر صحت کا نظام ہے

میں شکاریوں کے جس گروہ کے ساتھ تھا انھوں نہ مجھے دکھایا کہ کس طرح وہ مختلف جانوروں کو پکڑنے کے لیے مختلف طرح کے جال بچھاتے ہیں۔ شکاریوں نے مجھے اپنی مہارت کے قصے بھی سنائے۔

انھوں مجھے بتایا کے کس طرح وہ مختلف جالوں سے بندر سے لے کر جنگلی بھینس تک کی جسامت کے جانور پکڑتے ہیں۔

شکاریوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے صرف مجھے دکھانے کے لیے یہ جال بچھائے ہیں۔ لیکن میں ان کی مسکراہٹ سے میں سمجھ گیا کہ یہ وہی سیرالیون والوں کا سچ اور جھوٹ والا کھیل ہے۔

جس راستے سے ہم گزر کر آئے تھے اس پر نشانات سے یہ کافی واضع تھا کہ شکاری یہاں پر اکثر آتے رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بازار میں ملنے والا گوشت کافی مہنگا ہوتا ہے اس لیے سیرالیون کی دیہی آبادی اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جنگلی جانوروں کے گوشت پر انحصار کرتی ہے اور یہ خاص پکوان بھی ہے۔

میں نے سچ اور جھوٹ کے کھیل سے اندازہ لگایا ہے کہ جنگلی جانوروں کا شکار اب بھی ہو رہا ہے اور یہ شکاری انتہائی مہارت سے شکار کرتے ہیں۔ میں ان شکاریوں کی مہارت سے بہت متاثر ہوا ہوں۔

میں جنگل اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہر بالا اماراساکن کے شکار پر پابندی کے موقف کی بھی قدر کرتا ہوں۔

لیکن میرے خیال میں ایبولا کے پھیلنے کی بڑی وجہ روائتی شکاری نہیں بلکہ سیرالیون کا غیر موثر صحت کا نظام اور حکومتی بد انتظامی ہے۔

اسی بارے میں