اسرائیلی وزیراعظم کی اپنے بیان پر عرب شہریوں سے معذرت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب جماعتوں کے اکثریتی مشترکہ اتحاد نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی معذرت مسترد کر دی

اسرائیل کے وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو نے اس بات پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے انتخابات کے دوران انھوں نے اسرائیل کے عرب ووٹروں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ’گروہ در گروہ ووٹ ڈال رہے ہیں۔‘

بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ ان کا مطلب اسرائیل کے عرب ووٹروں کو خفا کرنا نہیں تھا۔

نتن یاہو کی کامیابی سے امن کے امکانات تاریک تر

الیکشن کے روز فیس بک پر ایک پیغام میں بن یامین نتن یاہونے اپنے حمایتیوں کو خبردار کیا تھا کہ ’دائیں بازو کا دورِ اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے کیونکہ بائیں بازو کی تنظیمیں بسیں بھر بھر کے عرب ووٹروں کو لا رہی ہیں۔‘

تاہم عرب جماعتوں کے اکثریتی مشترکہ اتحاد نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی معذرت مسترد کر دی ہے۔

وزیرِاعظم کو خدشہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے ووٹرگھروں میں بیٹھے رہیں تاہم انتخابی نتائج توقع کے برعکس آئے اور بن یامین نتن یاہو آرام سے جیت گئے۔

اب بن یامین نتن یاہو کہتے ہیں کہ انھیں امید ہے کہ دو سے تین ہفتوں کے اندر وہ نئی مخلوط حکومت بنا لیں گے۔

اپنے جملے پر معافی مانگتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ’مجھے پتہ ہے کچھ دن پہلے میں نے جو باتیں کیں اس سے کچھ اسرائیلی شہریوں کو تکلیف پہنچی ہے۔ لیکن اپنے دور میں بطور وزیرِاعظم میں نے جو کچھ کیا جس میں اقلیتی شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری شامل ہے، صاف ظاہر کرتا ہے کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اسرائیلی ریاست کے باہر سے کسی کو ہمارے جمہوری عمل میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

ُادھر انتحابات میں 13 نشستیں جیتنے والے عرب جماعتوں کے اکثریتی اتحاد مشترکہ عرب لسٹ کے رہنما آئیمن اودھے نے اسرائیل کے چینل 10 سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم اس معافی کو نہیں مانتے۔ یہ معذرت انھوں نے بزرگوں کے ایک گروپ سے کی ہے نہ کہ اسرائیلی عربوں کی منتخب قیادت سے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس معافی کو عملی صورت کیسے دیں گے۔ کیا وہ مساوات کو آگے بڑھائیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم بن یامین نتن یاہو آرام سے الیکشن جیت گئے ہیں

بن یامین نتن یاہو کے ان جملوں کے بعد وائٹ ہاؤس نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کی وہاں کے عربوں کو غیر اہم بنانے والی ’تقسیم سے بھری خطابت پر گہری تشویش ہے۔‘

انتخابات سے قبل بن یامین نتن یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوگئے تو فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاہم حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے اس موقف میں نرمی ظاہر کی ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس کے مشیر ڈینس میکڈونو نے پیر کوکہا کہ ’ہم یہ نہیں کر سکتے کہ یہ جملے کبھی بولے ہی نہیں گئے تھے۔‘

ان کی طرفدار زائنسٹ یونین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ عالمی برادری اور فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائے گی۔

اسرائیلی عرب ان ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینیوں کی نسل میں سے ہیں جو1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد بچ رہے تھے۔ یہ عرب اسرائیلی آبادی کا 20 فیصد ہیں۔

اسی بارے میں