لی کوان یئو: جدید سنگاپور کے معمار

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سنگار پور کے مدبر رہنما لِی کوان یئو کے پاس دیکھنے والی آنکھ بھی تھی اور ایک عملی نقطۂ نظر پر ایک بے رحمانہ یقین بھی اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے قدرتی وسائل سے محروم ایک چھوٹے سے جزیرے کو معاشی طور پر ترقی یافتہ اور کامیاب ملک میں بدل کے رکھ دیا۔

انھوں نے کامیابی سے سنگار پور کے لوگوں کی توانائیوں کو ایک معاشی معجزے کر دکھانے کی راہ دکھائی۔ایک ایسا معجزہ جسے نجی اور سرکاری سرمایہ داری کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے۔

لِی نے سنگار پور کو خوشحال، جدید، کارگزار اور عملی طور پر بدعنوانی سے پاک ملک بنا دیا جس میں پیسہ لگانے کے لیے باہر سے سرمایہ کار امڈ پڑے۔

اگرچہ معاشی کامیابیوں کے باعث ان کی بہت تعریف ہوئی، بہت سے لوگوں نے حقوقِ انسانی پر ان کے ریکارڈ پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

لی کوان 16 ستمبر 1923 کو سنگار پور میں پیدا ہوئے۔ وہ تین نسل پہلے یہاں آنے والے ایک چینی تارکِ وطن کے بیٹے تھے۔ ان کی تربیت میں برطانوی اثر بہت مضبوط اور نمایاں تھا اور ان کے دادا انھیں ہیری لِی کہتے تھے۔ اپنی ابتدائی زندگی کے کئی سال وہ اسی نام سے جانے جاتے تھے۔

انھوں نے سنگاپور کے ایک انگریزی سکول میں تعلیم حاصل کی لیکن 1942 میں جب جاپان نے سنگاپور پر قبضہ کر لیا تو ان کی تعلیم میں تعطل آ گیا۔

اگلے تین سال وہ بلیک مارکیٹ سے جڑے رہے اور چونکہ انھیں انگریزی بولنے میں مہارت حاصل ہو گئی تھی، انھوں نے جاپان کے پروپیگینڈا کے محکمۂ میں بھی کام کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

جنگ کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے لندن سکول آف اکنامکس بھی گئے۔ وہاں سے کیمرج یونیورسٹی چلے گئے اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ انھیں قانون میں ’ڈبل فرسٹ‘ حاصل کرنے کا اعزاز بھی ملا۔

انگلینڈ میں اپنی قیام کے دوران مسٹر لی، بی بی سی ہوم سروس اور ریڈیو فور سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے اور انھوں نے یورنیورسٹی کے ایک دوست کی انتخابی مہم میں بھی شرکت کی جو ڈیون کے دیہی علاقے سے پارلیمنٹ کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔

لی جو زمانۂ طالب علمی سے ہی پکے سوشلسٹ تھے سنگار پور واپس آنے کے بعد ٹریڈ یونین کے ایک نمایاں وکیل بن گئے۔

1954 میں وہ پیپلز ایکشن پارٹی کے بانی اور پہلے سیکریٹری جنرل بنے اور اگلے چالیس سالہ عرصے میں یہ عہدہ کم و بیش انہی کے پاس رہا۔

1959 کے انتخابات میں پیپلز ایکشن پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں اور سنگاپور، برطانیہ کے مکمل کنٹرول سے نکل کر خود مختار ریاست بن گیا۔

دس سال بعد مسٹر لی نے سنگاپور کا ادغام ملیشیا کے ساتھ کر دیا لیکن اس تعلق کی عمر تھوڑی تھی۔ نظریاتی کشیدگی اور نسلی گروپوں کے درمیان پُرتشدد جھڑپوں کی وجہ سے سنگار پورکو فیڈریشن سے باہر نکلنا پڑا اور یہ مکمل طور پر آزاد ملک بن گیا۔

یہ فیصلہ مسٹر لی کے لیے مشکل تھا۔ وہ ملائیشیا کے ساتھ اتحاد کو علاقے کے نوآبادیاتی ماضی سے بالآخر چھٹکارے کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس واقعہ کو انھوں نے ’تکلیف کا لمحہ‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاپور دنیا کے ایک ایسے معاشرے کی تصویر بن گیا جہاں قاعدے اور قانون کی بہت زیادہ پاسداری ہوتی تھی

تاہم ملائیشیا کے ساتھ تجارتی اور فوجی روابط برقرار رکھے گئے اور ملیشیا اور سنگاپور دونوں کی مشترکہ حفاظت کی خاطر برطانیہ کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنا اڈا سنگا پور میں رکھے۔

اب لی نے اصلاحات کے ایک بہت بڑے پروگرام کا آغاز کیا جس کا مقصد سنگاپور کو ’تنزل، آلائش اور آلودگی کے گڑھے سے‘ باہر نکال کر ایک جدید صنعتی ملک بنانا تھا۔

ایسا کرنے کے لیے انھوں نے ہر چیز پر مضبوط کنٹرول قائم کیا اور ان کا ملک دنیا کے ایک ایسے معاشرے کی تصویر بن گیا جہاں قاعدے اور قانون کی بہت زیادہ پاسداری ہوتی تھی۔

انھوں نے اپنے چند نکتہ چینیوں کو مقدموں کے بغیر جیل میں ڈال دیا، میڈیا اور غیر ملکی اخبار و جرائد پر پابندیاں لگائیں اور کئی صحافیوں کو گرفتار بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پریس اور میڈیا کی آزادی کو سنگا پور کی سالمیت کی اہم تر ضرورتوں کے تابع ہونا چاہیے۔‘

لی نے اپنے اقدامات کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ اخبارات کو باہر کے ان ممالک سے پیسہ مل رہا ہے جن کے مفادات معائندانہ ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ایک ترقی پذیر ملک میں کچھ آزادیوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کے کچھ مخالفین نے یہ کہا کہ انھیں پارلیمانی انتخابات میں اتنی زیادہ اکثریت اور نتیجتاً سکیورٹی مل گئی تھی کہ انھیں ایسے جابرانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمیونزم مخالف نظریے کا توڑ کمیونزم ہے اور مغرب کے آزاد جمہورت کے تصورات کا اطلاق سنگاپور پر نہیں ہو سکتا۔

وہ کمیونزم کے خلاف تھے لیکن ان پر الزام لگا کہ انھوں نے کمیونسٹ اندازِ حکمرانی اختیار کیا تاکہ اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھا سکیں، اگرچہ کئی کمیونسٹ حکومتوں کے برعکس ان کے عہد میں سنگاپور کے لوگوں کو مالی فوائد حاصل ہوئے۔

1960 سے 1980 کے دوران سنگاپور کے جی این پی میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔

لی کو چین کے ساتھ ایک اچھی شراکت داری کی اہمیت کا احساس تھا اور ان کی چین کے رہنما ڈینگ زیاپینگ کے ساتھ دوستی سے بھی ان کے اس خیال کو مدد ملی۔

ڈینگ نے 1978 میں سنگاپور کا دورہ کیا اور لی کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی۔ لی چین میں ڈینگ کی قیادت میں ہونے والی اصلاحات سے بہت متاثر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کرپشن کے خاتمے کے لیے کئی اقدامات کیے، کم قیمت کے گھروں کا پروگرام شروع کیا اور صنعت کو فروغ دیا تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں۔

انھوں نے جزیرے کے مختلف گروہوں کو یکجا کیا جس سے ایک بے مثال ’سنگاپورین‘ شناخت کی تخلیق ہوئی جس کی بنیاد مختلف ثقافتی گرہوں پر تھی۔ انھوں نے کوشش کی کہ سنگاپور کے لوگ مینڈرن چینی زبان اور انگریزی بولیں۔

وہ جسمانی سزا کی اثر پذیری کے بہت قائل تھے اور اپنے سکول کے زمانے میں خود اس کا شکار بھی ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا تھا ’میں کبھی یہ نہیں سمجھ سکا کہ مغربی ماہرینِ تعلیم جسمانی سزا کے اتنے خلاف کیوں ہیں۔ مجھے اور میرے ساتھی طلبہ کو اس سے کبھی نقصان نہیں پہنچا۔‘

جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو جسمانی سزا سنگاپور کے نظامِ عدل کا ایک لازمی حصہ تھی اور چالیس کے لگ بھگ جرائم پر اس کا اطلاق ہوتا تھا۔

لی نے سنگاپور کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے فیملی پلاننگ کی مہم شروع کی اور ان افراد کو ٹیکس کی مد میں سزا کے طور پر زیادہ پیسے دینے پڑتے تھے جن کے دو سے زیادہ بچے ہوتے تھے۔

بعد میں انھوں نے کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ گریجویٹ خواتین کی حوصلہ افزائی ہو اور انھیں زیادہ بچوں پر ملنے والے سزا سے چھوٹ دی جائے تاکہ وہ شادی کریں۔ تاہم کم تعلیم یافتہ خواتین پر اس سزا کا اطلاق بدستور قائم رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ singapore
Image caption لِی نے سنگار پور کو خوشحال، جدید، کارگزار اور عملی طور پر بدعنوانی سے پاک ملک بنا دیا

سنگاپور کے لوگوں کو سکھایا گیا کہ وہ خوش اخلاقی اور تپاک کا مظاہرہ کریں، شور کم کریں، کب ٹائلٹ میں فلش کریں اور یہ کہ چیوئنگ گم استعمال نہ کریں۔سنگار پور میں دیواروں پر تحریریں اور لکیریں نہیں ہیں کیونکہ حکومت نے ان پر پابندی لگائی تھی۔

تاہم بلند معیارِ زندگی اور بڑھتی ہوئی پرآسائش زندگی کے باوجود نوجوان ووٹر لی کو اب کافی تعداد میں مسترد کر رہے تھے اور اپوزیشن کی زیادہ حمایت کرنا شروع ہوگئے تھے۔

جنوری 1985 میں انھوں نے اپنی کابینہ میں رد و بدل کرتے ہوئے نوجوانوں کو شامل کیا۔

اگرچہ اس وقت سنگاپور کی معیشت پر وقت قدرے کڑا تھا لیکن ان کی جماعت کو انتخابات میں بھاری اکثریت ملتی رہی۔

990 میں جب سات مرتبہ الیکشن جیتنے کے بعد لی نے اقتدار چھوڑا تو وہ دنیا میں وزیرِ اعظم کے عہدے پر سب سے طویل عرصے تک فائز رہنے والے شخص تھے۔

اسی بارے میں