یوروگوئے کا گوانتاناموبے کے قیدیوں کو پناہ دینے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابو وئیل دیاب نے ارجنٹائن جا کر گوانتاناموبے کے تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا

یوروگوئے کی نئی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ گوانتا ناموبے جیل کے مزید کسی بھی قیدی کو پناہ نہیں دے گی۔

گذشتہ سال دسمبر میں یوروگوئے کے حکام نے کیوبا میں امریکی اڈے میں 12سال تک قید رہنے والے چھ عرب باشندوں کو پناہ دی تھی۔

انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوروگوئے کی اکثریتی عوام نے سابق صدر ہوزے موہیکا کے بہت سے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ملک کے وزیرِ داخلہ روڈولفو نن نواؤ نے اپنے بیان میں بتایا کہ جنگ زدہ ملک شام سے آنے والے افراد کو بھی پناہ نہیں دی جائے گی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے پر رواں سال کے آخر تک عمل نہیں ہو گا۔

پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ نہ دینے کے فیصلے کی وصاحت کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ شام سے آنے والے خاندانوں کے حوالے سے’ثقافتی اور بنیادی‘ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

اس سلسلے میں یوروگوئے کے مقامی میڈیا پر شام سے آنے والے خاندانوں میں گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

’واضح کوشش‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گوانتاناموبے میں طویل عرصے تک قید رہنے والے پانچ افراد میں شام، فلسطین اور تیونس کے شہری شامل ہیں

دسمبر 2014 میں جن چھ عرب باشندوں کو یوروگوئے میں پناہ دی گئی تھی ان میں ابو وائیل دیاب، علی حسین شعبان، احمد عدنان اجوری اور عبدالہادی فراج کا تعلق شام سے، جبکہ محمد عبداللہ طہٰ متین اور عادل بن محمد ال اوریغی کا تعلق تیونس سے ہے۔

یوروگوئے کے سابق صدر نے ان افراد کے بارے میں کہا کہ ہوزے موہیکا نے کہا تھا کہ وہ ایک ’ہولناک اِغوا‘ کا شکار ہو رہے تھے۔

ان قیدیوں پر الزام تھا کہ ان کے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور اس وجہ سے انھیں 12 سال تک جیل میں رکھا گیا تاہم ان پر کبھی بھی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔

نیے وزیرِ خارجہ نِن نواؤ نے اپنے بیان میں گوانتاناموبے کے قیدیوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی وضاحت نہیں کی تاہم سابق صدر نے چھ عرب باشندوں سے فروری میں ملاقات بھی کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ان افراد کوابھی یہاں کی زندگی میں ڈھلنے میں دِقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ ان کا ایک مختلف ثقافتی پس منظر ہے بلکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک طویل عرصے تک تنہا زندگی گزاری اور انھیں بہت تکالیف اور ناسازگار حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سیاہ سوراخ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیوبا میں امریکہ کے زیرِ نگرانی گوانتاناموبے کی وجہ سے کیوبا کو سیاہ سوراخ کہا جاتا ہے

لاطینی امریکہ میں ایل سالواڈور وہ دوسرا ملک ہے جس نے گونتاناموبے کے دو قیدیوں کو پناہ دی تھی۔

ایک سابق قیدی عبدالہادی فراج نے پناہ دیے جانے پر اپنے وکیل کے ذریعے نیویارک ٹائمز میں یوراگوئے کے سابق صدر موہیکا کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

گوانتاناموبے کی وجہ سے کیوبا کو ’سیاہ سوراخ‘ کہا جا رہا ہے۔ وہاں اس وقت 120 سے زائد قیدی باقی ہیں۔

سابق صدر موہیکا نے یوروگوئے میں فوجی دورِ حکومت کے دوران خود بھی قید کاٹی تھی۔ انھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گوانتاناموبے سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دی تھی۔

ملکی قانون کے مطابق ایک ہی شخصیت مسلسل دو بارصدر منتخب نہیں ہو سکتی۔ ملک کے نئے صدر کا تعلق انھی کی جماعت ہے جنھوں نے یکم مارچ کو اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔

اسی بارے میں