یمن میں حوثی عدن شہر کے قریب پہنچ گئے، صدر’فرار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حوثی قبائل مختلف محاذوں پر پیش قدمی کر رہی ہے

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حوثی قبائلی جنگجو عدن شہر پر قبضہ کرنے کے قریب ہیں اور اس وقت شہر کے مضافات میں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

اس سے پہلے قبائلیوں کی شہر کی جانب پیش قدمی کے بعد صدر عبدالربوہ منصور ہادی عدن کے صدارتی محل سے فرار ہو کر کسی نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے ہیں جبکہ حوثی باغیوں نے ان کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کیا ہے۔

یمن: ایران، سعودی عرب کا میدان جنگ؟

اطلاعات کے مطابق اس وقت عدن شہر کے مضافات میں قبائلیوں کی صدر ہادی کی حامی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہو رہی ہیں جبکہ شہر کے ہوائی اڈے پر باغیوں نے قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری اہلکاروں نے صدر ہادی کے بیرون ملک جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت عدن میں ہی نامعلوم مقام پر موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ ان کا صدر ہادی سے دن کے پہلے حصے میں رابطہ تھا لیکن اب وہ کمپاؤنڈ میں نہیں ہیں لیکن اس وقت ان معلومات کا تبادلہ نہیں کر سکتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے کہ صدر عبد الربوہ منصور ہادی باغیوں کے زیر قبضہ سرکاری ٹی وی چینل پر عدن کے قریب بڑے فضائی اڈے پر قبضے کی خبر نشر ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد اپنا محل چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔

دریں اثنا برطانوی خبررساں ادارے روائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ سعودی حکام نے یمن کے ساتھ اپنی سرحد پر فوج کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف دفاع کی مستحکم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ساحلی شہر عدن کے قریب العند کے فضائی اڈے پر امریکی اور مغربی فوجی ماہرین تعینات تھے جو القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں یمن کی افواج کی رہنمائی کرتے تھے۔

حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں نے یمن کے سب سے بڑے فضائی اڈے پر بدھ کی صبح قبضہ حاصل کر لیا تھا۔

عدن شہر سے ساٹھ کلو میٹر دور اس ہوائی اڈے سے گزشتہ ہفتے امریکی اور مغربی فوجی ماہرین کو واپس بلا لیا گیا تھا۔

صدر عبدالربوہ منصور ہادی دارالحکومت صنعا پر باغیوں کے قبضے کے بعد عدن منتقل ہو گئے تھے اور یہاں سے اپنا اقتدار بچائے ہوئے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے عدن کے ساحل پر ایک پہاڑی پر واقع صدارتی محل سے گاڑیوں کا ایک قافلہ نکلتے دیکھا ہے۔

یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ سرکاری ٹی وی چینل پر منصور ہادی کی گرفتاری پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدارتی محل کے حکام نے کہا ہے کہ صدر عبدالربوہ منصور ہادی ایک کنٹرول روم سے حوثی قبائل اور ان کے حامیوں کے خلاف جنگ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لیکن ان حکام نے اس کنٹرول روم کے محل وقوع کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے اور نہ ہی یہ حکام اپنا نام ظاہر کرنے پر تیار تھے۔

حوثی قبائل کی پیش قدمی کے باعث یمن میں جاری خانہ جنگی میں ہمسایہ خلیجی ممالک کی مداخلت کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ عبدالربوہ منصور ہادی نے پہلے ہی اقوام متحدہ سے ملک میں بیرونی فوجی مداخلت کی اجازت دینے کی درخواست کر رکھی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیر دفاع میجر جنرل محمود الصباحی اور ان کے اعلی فوجی مشیروں کو جنوبی شہر لہج سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حوثی قبائل کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ حوثی ملک کے جنوبی حصے پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی افواج عدن میں عارضی طور پر رہیں گی۔

منگل کو اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجو اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوجی ساحلی شہر مخا اور ضالع میں داخل ہو گئے ہیں۔

سیکورٹی حکام اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں اور سابق صدر کے حامی فوجی توپ خانے، جہاز گرانے والی توپوں، خود کار ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور ان کی عبدالربوہ منصور ہادی کے حامی ملیشیا اور قبائلیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔

طبی عملے کے مطابق تعز شہر میں حوثی قبائلیوں کے حامی فوجیوں نے کم از کم چار مظاہرین کو ہلاک کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption باغیوں کی صدر ہادی کے حامیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق باغیوں کے گورنر کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔

ضالع صوبے کا دارالحکومت بھی ضالع ہے اور یہ تعز سے مشرق کی جانب 78 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

روئٹرز کے مطابق باغی اس کے علاوہ تعز سے مغرب کی جانب واقع ساحلی شہر مخا میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔

یہ شہر دفاعی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بحیرہ قلزم اور خلیج عدن کو ملانے والی آبنائے باب المندب پر واقع ہے اور یہ تیل کی تجارت کا ایک مصروف سمندری راستہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے یمن میں ایرانی ’مداخلت‘ کی بھی مذمت کی ہے

اس پیش قدمی نے حوثی باغیوں اور صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی وفادار فوجوں کے مابین تنازع کے قریب کر دیا ہے جو جنوب میں ساحلی شہر عدن میں مقیم ہیں۔

یمنی صدر نے فروری میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شہر چھوڑ دیا تھا۔

تاہم اس اقدام کو جنوب میں رہنماؤں یا سنی گروہوں نے اہمیت نہیں دی ہے۔ اس کے باعث یمن کے ہمسایہ خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کو تشویش ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں نے ایک ایسے وقت پیش قدمی کی ہے جب ایک دن پہلے پیر کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا تھا کہ یمن میں عدم استحکام کا پرامن حل نہ نکالا گیا تو خلیجی ممالک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ’ناگزیر اقدامات‘ کر سکتے ہیں۔

یہ ردعمل یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے خلیجی عرب ریاستوں سے یمن میں مداخلت کریں اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے نو فلائی زون قائم کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیعہ حوثی گروہ شمال میں اپنے زیرانتظام علاقوں سے مقامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں

اس سے پہلے اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یمن خانہ جنگی کے قریب ہے جبکہ شعیہ حوثیوں کی جانب سے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ دنوں حوثی باغیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز کے مختلف حصوں پر قبضہ کر لیا تھا جس سے بعد مقامی سطح پر مظاہرے بھی ہوئے۔

خیال رہے کہ یمن میں موجود متحارب باغی گروہوں جن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں کا تشدد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

گذشتہ جمعے کو دارالحکومت صنعا میں حوثی قبائلیوں کی دو مساجد پر ہونے والے خودکش حملوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں