یمن:ایران، سعودی عرب کا میدان جنگ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حوثیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی جاری ہے

یمن میں جاری مخلتف گروہوں کی جن میں شیعہ حوثی باغیوں، سنی قبائل، سعودی عرب، ایران، خلیجی ممالک، القاعدہ اور اب دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں مفادات کی جنگ نے ملک کی صورتحال کو انتہائی سنگین کردیا ہے۔

حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ نے ملک میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے ہیں جبکہ خلیجی ممالک نے اپنے سفارت خانے جنوبی شہر عدن منتقل کر دیے ہیں۔

حوثی قبائل کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کے مضبوط گڑھ عدن کی جانب پیش قدمی جاری ہے اور خیال رہے کہ بحیرہ احمر کی آبنائے باب المندب جہاں سے سالانہ 20 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں کے داخلے کا راستہ عدن سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

صدر عبدالربوہ منصور ہادی نے خلیج تعاون کونسل سے ملک میں فوجی مداخلت اور نو فلائی زون نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔

تو کیا یمن میں جاری جنگ خطے میں پھیل سکتی ہے؟

فرقہ وارانہ کشیدگی

ملک میں جاری اصل جنگ حوثی باغیوں اور منتخب حکومت میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب نے ایران پر یمن میں مداخلت کا الزام لگایا ہے

حوثی زیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ سنی قبائل بھی ان کے سخت مخالف ہیں۔ لیکن ان کی سب سے بڑی مخالف القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ ہے جو اہلِ تشیع کو گمراہ اور مرتد قرار دیتے ہیں۔

20 ماچ کو دولتِ اسلامیہ نے حوثیوں کے حامیوں کی مساجد پر چار خود کش حملے کر کے 130 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

حوثی باغیوں کا تعلق شمالی یمن سے ہے اور ملک کے باقی علاقوں میں ان کو کوئی قابلِ قدر حمایت حاصل نہیں ہے۔

لیکن وہ اچھے جنگجو ہیں اس لیے وہ ملک کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے مدد نہیں لیں گے مگر درحقیقت ان کو کچھ حلقوں سے مدد مل رہی ہے۔

عام خیال ہے کہ حوثیوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حمایت حاصل ہے کیونکہ وہ موجودہ صدر کی حکومت جسے اقوامِ متحدہ کی حمایت حاصل ہے کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔

ایران پر بھی حوثی باغیوں کی حمایت کر نے کا الزام ہے۔ اگرچہ باغی اس الزام کی تردید کرتے ہیں لیکن باغیوں کے رہنماوں کو ایران کے مقدس شہر قم میں دیکھا گیا ہے اور کچھ غیر مصدقہ اطلاعت کے مطابق ایرانی پائلٹ یمنی طیارے اڑا رہے ہیں۔

یہ سب کچھ سعودی عرب کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے جس کو بہت عرصے سے پتہ چلا کہ اس کے ہمسائے میں ایران نواز باغیوں کا قبضہ ہونے والا ہے۔

سعودی عرب کا جس نے سنہ 2010 میں حوثیوں پر فضائی بمباری کی تھی کہنا ہے کہ وہ ایران کو خطے میں فرقہ واریت کے بیج نہیں بونے دے گا اور اس نے موجودہ حکومت کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب یمن کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے باڑ لگا رہا ہے اور اس کے ساتھ بحیرہ احمر کی بندر گاہ جزان میں واقع اپنے بحری اڈے کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔

حامیوں کے ذریعے جنگ کا خطرہ

تھنک ٹینک فائیو ڈائمنشنز سے وابسطہ سکیورٹی کے تجزیہ کار ایمن دین کا کہنا ہے کہ ’ سعودی عرب کی فوجی تیاریوں اور سفارتی بھاگ دوڑ سے لگتا ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں آبنائے

باب المندب پر حوثیوں کا قبضہ ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔‘

اگر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک ایک طرف ہو جاتے ہیں اور ایران دوسری طرف تو یہ تنازعہ اور سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔

واشنگٹن میں اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سنٹر کے مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈائریکٹرجان اولٹمان کا کہنا ہے کہ ’ خطرہ ہے کہ یمن میں جاری جنگ کو صرف خلیج تعاون کونسل اور ایران کے درمیان جنگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے، ایران یقیناً حوثی باغیوں کو کچھ مدد فراہم کر رہا ہے، لیکن گزشتہ دس سالوں میں اس نے بہت کم امداد دی ہے۔‘

’ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ ایران کی حکومت یمن کو اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہو اور اگر حامیوں کے ذریعے جنگ لڑی گئی تو یہ جنگ کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سابق صدر علی عبداللہ صالح حوثی باغیوں کے حمایتی ہیں

بحران سے نکلنے کی کوئی حکمتِ عملی نہیں

یمن میں بیرونی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ساٹھ کی دہائی کی خانہ جنگی میں مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے جمہوریت پسندوں کی حمایت میں اپنی فضائیہ بھیجی تھی جس نے بادشاہت کے حامیوں پر کیمائی بم گرائے تھے۔

سنہ 1967 تک عدن اور اس سے محلقہ صوبوں کا انتظام برطانیہ کے پاس تھا۔ جنوبی یمن پر روس کے حمایت یافتہ کمیونسٹوں کی حکومت تھی اور روس کا وہاں فوجی اڈا بھی تھا۔

سنہ 1994 کی شمالی اور جنوبی یمن کی خانہ جنگی میں سعودی عرب نے شمالی یمن کا ساتھ دیا تھا۔

گزشتہ 20 برسوں سے امریکہ نے یمن کی انسدادی دہشت گردی کی فورس کو تربیت دینے کے لیے محدود تعداد میں اپنے فوجیوں کو ملک میں رکھا ہوا تھا لیکن حال ہی میں امریکی فوجی اڈے کے قریب واقع شہر پر القاعدہ کے قبضے کے بعد امریکہ نے اپنے فوجیوں کو وہاں سے نکال لیا ہے۔

ایک مغربی عہدیدار نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ خانہ جنگی کا اصل خطرہ بیرونی مداخلت ہے۔‘

لیکن بیرونی طاقتیں بہت سوچ سمجھ کر ملک میں فوجی مداخلت کریں گی۔ یمن میں جنگ لڑنا مہنگا اور کافی پیچیدہ عمل ہے اور بحران ختم کرنے کی کوئی واضع حکمتِ عملی بھی دستیاب نہیں ہے۔

اسی بارے میں