ایرانی صدر کے جوہری پروگرام پر عالمی رہنماؤں سے رابطے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرانی صدر نے اپیل ایسے وقت کی ہے جب سعودی عرب نے اتحادیوں سمیت یمن میں فوجی مداخلت کر دی ہے

ایران کے صدر حسن روحانی نے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے چھ عالمی طاقتوں کے سربراہان کو براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ اس منفرد موقعے کو ہاتھ سے جانے نہ دیں جو خطے اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

نوروز یا ایران اور امریکہ کا موسم بہار

’ایران کے لیے مشکل فیصلے کرنے کا وقت آن پہنچا‘

امریکہ سمیت چھ چالمی طاقتیں ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں اور ان ممالک کے وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ میں جمع ہو رہے ہیں اور 31 مارچ کی مقررہ کردہ ڈیڈ لائن سے پہلے ممکنہ جوہری معاہدے پر پہنچنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے مذاکرات میں حصہ لینے والی تمام چھ عالمی طاقتوں کے سربراہوں کو خط لکھا ہے جبکہ برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے سربراہان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

صدر حسن روحانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق انھوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اس منفرد موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جو خطے اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی اہمیت پر بھی بات کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ایک ترجمان کے مطابق وزیراعظم کیمرون ایرانی صدر سے متفق ہیں کہ معاہدہ ممکن ہے تاہم وزیراعظم نے زور دیا کہ ایران کو دنیا کو یہ دیکھانے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پرامن مقصد کے لیے ہے۔

ایک اعلیٰ برطانوی سفارت کار کے مطابق ٹیلی فون کال بامعنی ہے جس سے ظاہر ہوتا کہ فریقین معاہدے کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی اور امریکی وزرائے خارجہ کے مطابق اب بھی ایسے اہم معاملات ہیں جن پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے

اس سے پہلے گذشتہ سنیچر کو ایرانی صدر حسن روحانی نے نوروز کے موقعے پر کپا تھا کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں پیش رفت کا مطلب ہے کہ حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ فریقین کے درمیان ابھی کچھ اختلافات باقی ہیں لیکن ’ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ ہو سکے۔‘

ان کے اس بیان کے بعد مغربی طاقتوں کے وزراء خارجہ نے لندن میں ملاقات کے بعد ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ’مشکل فیصلے‘ کر لے جو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے ضروری ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں امریکہ اور پھر ایران کے صدور نے جوہری معاہدے کے بارے میں پرامیدی ظاہر کی تھی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے جمعے کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ عالمی طاقتیں واضح طور پر سمجھ چکی ہیں کہ جوہری پروگرام پر ایران سے بات کرنے کا واحد راستہ دھمکیوں یا پابندیوں کا نہیں بلکہ عزت و احترام ہے۔

اس سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر براک اوباما نے’نوروز‘ کے موقع پر ایرانی حکومت اور عوام کو مبادکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس اس وقت باہمی تعلقات کی نوعیت کی تبدیلی اور مختلف مستقبل کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔

اسی بارے میں