کریشر قتل کیس میں امینڈا اور سولیسیٹو بری ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نوکس کو بھی میریڈتھ کریشر کے قتل کے الزام میں اُن کے اطالوی بوائے فرینڈ رفائیلی سولیسیٹو کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا

اٹلی کی ایک اپیل عدالت نے ایک برطانوی طالبہ میریڈتھ کریشر کے قتل کیس میں امینڈا نوکس اور رفائیلی سولیسیٹو کو جرم سے بری کر دیا ہے۔

2009 مریڈتھ کریشر جن کا تعلق جنوبی لندن کے علاقے کولسڈن سے ہے کو اٹلی میں پیروگیا کے علاقے میں واقع اُن کے فلیٹ میں چاقو کے وار سے ہلاک کر دیا گیا تھا جو وہ امینڈا نوکس کے ساتھ شیئر کرتی تھیں۔

2009 میں ہی امینڈا اور نوکس کے خلاف مقدمہ چلا اور انھیں اسی سال انھیں سزا سنائی گئی تھی۔

امینڈا نوکس شادی کرنے والی ہیں

تاہم 2011 میں ایک 8 اراکین پر مشتمل جیوری نے دونوں کو قتل کے جرم سے بری کر دیا تھا جس کی بنیاد ڈی این اے کے ثبوت جمع کرنے کے طریقۂ کار پر شکوک و شبہات پر رکھی گئی تھی۔

اس کے نتیجے میں استغاثہ نے دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا اس بنیاد پر کہ اہم ثبوت کو رد کر دیا گیا ہے اور 2014 میں سزا بحال کر دی گئی تھی۔

سزا کی بحالی کے خلاف دونوں نے عدالت میں اپیل کر رکھی تھی۔

اب اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک طویل قانونی جنگ کا اختتام ہوا ہے۔ عدالت اپنے فیصلے کی وجوہات کو 90 دن بعد جاری کرے گی۔

فیصلے پر امینڈا نوکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ فیصلے پر بے حد مطمئن ہیں۔

’آزمائش کے اس تاریک دور میں میرے معصوم ہونے کے یقین کی وجہ سے بہت ہمت ملی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امینڈا کے مطابق آزمائش میں معصوم ہونے کے یقین نے ہمت پیدا کی

نوکس کے خاندان نے بھی عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کس میں امینڈا کی حمایت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

میریڈتھ کریشر کے خاندان کی جانب سے وکیل فرانسیسکو مرسیکا نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’ میرے خیال میں یہ اٹلی کے عدالتی نظام کی شکست ہے۔‘

کریشر کی والدہ نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں فیصلے پر شدید حیرانگی اور دھچکا لگا ہے۔‘

امینڈا نوکس کے خاندان کے قریبی پروفیسر گریگ ہیپکنز نے نوکس کے دفاع کی لیے ڈی این اے شواہد پر کام کیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اس معاملے کو ختم ہوتا دیکھ کر سب ہی بے حد خوش ہیں تاکہ آگے بڑھیں اور اپنی زندگی گزاریں۔‘

اس کیس میں آئیوری کوسٹ کے شہری روڈی گوڈ کو میریڈتھ کے قتل کے الزام میں 16 سال قید کی سزا دی گئی تھی اور اس وقت وہ سزا کاٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں