بوکوحرام کے ہیڈکوارٹر پر نائجیریا کی فوج کا قبضہ

بوکوحرام
Image caption شدت پسند تنظيم بوکوحرام 2002 میں وجود میں آئی تھی

نائجیریا کی سرکاری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے زیر قبضہ شمالی مشرقی علاقے گاؤزا پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

خیال ہے کہ گاؤزا بوکرام حرام کا ہیڈکوارٹر تھا۔

ملک کی دفاعی فورسز کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس کارروائی میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد کو پکڑ لیا گیا ہے۔‘

فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے پورے علاقے اور اس کے اطراف میں آپریشن جاری ہے۔

اس علاقے پر قبضے کی خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک میں عنقریب صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔

صدارتی انتخابات فروری میں ہونے تھے لیکن انھیں بوکوحرام کے خلاف آپریشن کے سبب 28 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

سنہ 2009 میں بوکوحرام کی جانب سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس برس جب سے نائجیریا کے پڑوسی ممالک نے بوکوحرام کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کی ہے تب سے فوج نے متعدد علاقوں کو واپس اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

فوج نے حال ہی میں بتایا تھا کہ اب گاؤزا سمیت تین ایسے علاقے بچے ہیں جن پر ابھی بھی بوکوحرام کا قبضہ ہے۔ واضح رہے کہ 14 علاقے بوکوحرام کے قبضے میں تھے لیکن اب گاؤزا کی بازیابی کے بعد صرف دو علاقے بچے ہیں جن پر بوکوحرام کا کنٹرول ہے۔

بوکوحرام کے شدت پسندوں کی جانب سے 2004 میں گاؤزا پر قبضے کرنے کے بعد تنظيم کے سربراہ نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا تھا۔

نائجیریا کی فوج کی جانب سے جمعہ کو ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’آج صبح فوجیوں نے بوکوحرام کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر کے گا‎ؤزا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔‘

بی بی سی کے افریقہ کی سیکورٹی امور کے نامہ نگار ٹومی اولاڈیپو کا کہنا ہے کہ بوکوحرام کی جانب سے ان کا ہیڈکوارٹر سمجھے جانے والے علاقے کو واپس اپنے کنٹرول میں لینا نائجیریا کی فوج کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

گاؤزا نائجیریا کے چیبوک نامی اس علاقے سے بہت دور نہیں ہے جہاں سے بوکوحرام کے شدت پسندوں نے گذشتہ اپریل 200 سے زائد طالبات کو اغوا کیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گاؤزا ان علاقوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بوکوحرام نے مغوی لڑکیوں کو چھپا رکھا ہے۔ یہ لڑکیاں ابھی تک نہیں ملیں۔

واضح رہے کہ بوکوحرام عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر چکی ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ نائجیریا کے شمال مغرب میں جاری شورش سے پیدا ہونے والے انسانی بحران سے تقریباً 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اس تنظیم کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تنہائی پسند، بے خوف اور پیچیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔

اسی بارے میں