’مودی اور نواز کو چھوڑو، غنی کو گلے لگاؤ‘

Image caption افغان صدر اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آئی ہے

امریکی صدر اوباما خوش ہیں۔ اب تک بے چارہ امریکہ پوری دنیا میں خوشی پھیلانے کے لیے، جمہوریت بحال کرنے کے لیے، امن وامان کے قیام کے لیے کتنی محنت کرتا آیا ہے، کتنا پیسہ بہایا ہے۔

لیکن اس ہفتے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جیسے ساری کمی پوری کر دی۔ اتنی بار انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ یہاں سب کا دل باغ باغ ہوگیا۔

’امریکہ افغانستان کے مابین تعلقات کا نیا دور‘

امریکی فوج کا شکریہ، جوانوں کا شکریہ، ان کے اہل خانہ کا شکریہ، سفيروں کا شکریہ، ٹیکس دینے والے امریکیوں کا شکریہ، کانگریس کا شکریہ، اوباما کا شکریہ، مشیل اوباما کا شکریہ، جان کیری کا شکریہ، جان میكین تک کا شکریہ۔

کبھی کبھی تو کسی اور سے اتنی تعریف سننے کو ملتی ہے ورنہ تو بیچارے خود ہی اپنی تعریف کرتے رہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی صدر کی رضامندی کے بغیر اسرائیلی وزیراعظم کو کانگریس سے خطاب کے لیے مدعو کیا گیا

ایک حامد کرزئی تھے جو افغانستان کی ہر پریشانی کے لیے امریکہ کو کوسنے لگتے تھے، اوباما سے بول چال تک بند تھی۔

سی آئی اے والے تھیلے میں بھر بھر کر ڈالر پہنچاتے تھے لیکن تعریف تو دور، الٹے گالیاں ہی سننے کو ملتی تھیں۔

کچھ دن پہلے اسرائيل کے وزيراعظم بنیامین نتن یاہو آئے تھے، تھوڑا بہت شکریہ ادا کیا، امریکی مدد کے لیے اور چلے گئے۔

اور یہ وہ ملک ہے جس پر امریکہ ہمیشہ جان چھڑكتا رہتا ہے، ہرسال صرف ہتھیار خریدنے کے لیے اسے تین ارب ڈالر دیتا ہےلیکن پھر بھی شکایات کا پلندا ختم نہیں ہوتا۔ اور اگر غلطی سے فلسطینیوں کے حق میں کچھ کہہ دیا تب تو بالکل ہی خیر نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان صدر نے امریکی کانگریس کے اجلاس سے بھی خطاب کیا

اب پاکستان کو دیکھیے، 60 پینسٹھ برسوں سے اتنا کچھ کیا پھر بھی منہ پھولا رہتا ہے۔ اب امریکہ کہاں کہتا ہے کہ لشکر طیبہ کو بند کر دو یا ان پر ڈرون حملے کرنے دو، وہ تو بس گزارش کرتا رہتا ہے کہ ذرا اس حقانی نیٹ ورک کو ٹھونک پیٹ کے برابر کر دو، تھوڑی ہماری بھی عزت رہ جائے گی۔ لیکن کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ہندوستان کو دیکھیے، اتنے پیار سے امریکہ گلے ملتا ہے، تعریفیں کرتا ہے، آنے والے دنوں کا سپر پاور کہہ کر عزت دیتا ہے لیکن بات چیت میں بھی ذرا سی اونچ نیچ ہو جائے تو سارے ہندوستانی پرچم لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کب سے امریکہ کہہ رہا ہے کہ بھارت اتنا بڑا بازار ہے ذرا ہمیں بھی کھل کر کھیلنےدو تو بس سر ہلا دیتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ ہاں کہہ رہے ہیں یا نا۔

اب تو اوباما نے بھی سوچ لیا ہے۔ جو کرنا ہے افغانستان کے لیےکرنا ہے۔ باقی سارے بھی اس كے نام پر ہی قابو میں بھی آئیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چین، بھارت، پاکستان، ایران سب افغانستان کے معاملے پر’ایک انار سو بیمار‘ والی کہاوت کی طرح لائن پر آ رہے ہیں۔ کوئی طالبان سے مذاكرات کی کوشش کروا رہا ہے، کوئی افغان فوج کو ٹریننگ دینا چاہتا ہے، کوئی سکول، ہسپتال اور سڑک تعمیر کروا رہا ہے اور اگر کامیابی ملی تو سہرا اوباما کے سر بندھ جائےگا۔

جہاں سکندر اعظم بھی نہیں کامیاب ہوا وہاں براک اوباما کاپرچم لہرائے گا۔ ایک بار اسلامی دنیا کی طرف ہاتھ بڑھانے کےلیے نوبیل پرائز ملا تھا، اب یہ الگ بات ہے کہ تھوڑی بہت گڑبڑ ہو گئی تو وہاں اسلامی سٹیٹ کی طوطی بول رہی ہے۔

لیکن اس بار تو سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے۔ افغانستان اگر راستے پر آ گیا، یا کم سے کم ایسا لگے کہ راستے پر آ گیا، تو شاید ایک اور نوبیل پرائز کا جگاڑ ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں تو اب بچےكھچے دن رہ گئے ہیں اور ریپبلكنز نے ایسی تیسی کر رکھی ہے۔ ایسے میں تاریخ میں نام درج کرانے کا اس سے اچھا موقع نہیں ہے۔ تو مودی اور نواز کو چھوڑو، غنی کو گلے لگاؤ، اسی میں بہتری ہے۔

اسی بارے میں