سنگاپور نے چیونگ گم پر پابندی کیوں لگائی؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنگاپور کے پہلے وزیرِ اعظم چیونگ سے بپت نفرت کرتے تھے

سنگاپور کے بانی لی کوان یئو نے جن کا 91 سال کی عمر میں پیر کو انتقال ہوا تھا سنگاپور کو ایک چھوٹی سی بندرگاہ سے ایک امیر ملک میں تبدیل کرنے کے لیے شہرت پائی۔ لیکن ان کی شہرت ملک کو صاف ستھرا رکھنے کے شوق اور اچھے اخلاق کی وجہ سے بھی تھی۔ انھوں نے ملک میں چیونگ گم کھانے پر پابندی لگائی تھی۔ آخر گم میں ایسا کیا تھا جس سے وہ اتنی نفرت کرتے تھے۔

لی کوان یئونے ایک مرتبہ امریکی مصنف ٹام پلیٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شکایت کی کہ 1992 میں چیونگ گم پر پابندی لگانے کے بعد غیر ملکی صحافی صرف اس پر ہی بات کرنا چاہتے تھے۔

یہ پابندی سنگاپور میں دوسرے قوانین جیسا کہ گند کے خلاف، دیواروں پر لکھنے کے خلاف، لاپرواہی سے چلنے کے خلاف، تھوکنے، ناک سے گند نکالنے اور ٹوائلٹ کے علاوہ کہیں اور پیشاب کرنے جیسے قوانین کی طرح زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔

جب 1965 میں سنگاپور آزاد ہوا تو وہ ایک چھوٹی سی ریاست تھا جس کے پاس محدود وسائل تھے۔ ملک کے پہلے وزیرِ اعظم لی نے ایک ملک کی بقا کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ تیسری دنیا کے علاقے میں ایک ایسا ملک بنایا جائے جو پہلی دنیا کا نخلستان لگے۔

Image caption سنگاپور کی ٹرینوں کے دروازے کئی مرتبہ چیونگ کی وجہ سے بند نہیں ہوتے تھے

کچھ عرصہ کے بعد ہی سنگاپور صفائی، طریقے سے کٹے لان اور بہترین ٹرانسپورٹ کے نظام کی وجہ ترقی پذیر ممالک سے کہیں آگے نکل گیا۔ لگتا تھا کہ کیمرج سے پڑھ کر آنے والے لی کی آنکھیں پرفیکشن یا ملک کو ایسا بنانے پر تھیں کہ کہیں کو نقص نہ نظر آئے۔

پلیٹ اپنی کتاب جائنٹس آف ایشیا میں لکھتے ہیں کہ ’وہاں کالم نگار کی حیثیت سے کئی سال جاتے ہوئے میں بھی چیونگ گم کی پہیلی کے متعلق سوچتا رہتا لیکن بعد میں سمجھ آیا کہ بچی کھچی گم کو کہیں بھی چپکا دینے کی رغبت کو حکام سنگاپور کی بغیر کسی نقص کے ساتھ رہنے کی خواہش پر حملہ سمجھتے ہیں۔‘

جب گم پر پابندی لاگو کی گئی تو اس وقت تک لی بطور وزیرِ اعظم اقتدار میں 31 سال گزارنے کے بعد اب ’سینیئر وزیر‘ کے عہدے پر فائز تھے۔

انھوں نے 2000 میں بی بی سی کے پیٹر ڈے کو بتایا کہ ’ہمیں نینی سٹیٹ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا رویہ آج بہتر ہے اور ہم 30 سال پہلے کی نسبت اب زیادہ پسندیدہ جگہ پر رہتے ہیں۔‘

اس وقت لی بزنس میں نئی تخلیقی صلاحیتیں لانے پر زور دے رہے تھے اور پیٹر ڈے نے ہچکچاتے ہوئے لی سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ سڑک پر چپکی ہوئی چیونگ گم اس بات کا اشارہ ہو کہ نئی تخلیقی صلاحیت آ گئی ہے۔

لی نے ان کی طرف منہ بنا کر دیکھا اور کہا کہ ’سب وے ٹرین کے دروازے پر چیونگ گم لگا دینا تاکہ وہ نہ کھل سکیں، میں اسے تخلیقی صلاحیت نہیں کہتا۔ میں اسے فتنہ انگیزی کہتا ہوں۔ اگر آپ سوچ نہیں سکتے کیونکہ آپ چبا نہیں سکتے تو آپ کیلا کھانے کی کوشش کریں۔‘

لی کا خیال تھا کہ ہر چیز کا ایک پبلک پالیسی حل ہے۔

لیکن اپنے استعمال کے لیے تھوڑ مقدار میں چیونگ لانا غیر قانونی نہیں ہے۔

سنہ 2004 سے فارمیسسٹ اور ڈینٹسٹ علاج کے لیے گم تجویز کرتے ہیں اور یہ پریسکرپشن یا ڈاکٹر کی لکھے ہوئے نسخے کی پرچی دکھانے پر ملتی ہے۔ اس میں عام شوگر فری گم بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیونگ گم کھانے میں تو اچھی لگتی ہے لیکن زمین کے ساتھ چپکی ہوئی بری

لیکن آپ کو پھر بھی گم کو باہر پھینکنے پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔

سنگاپور مینجمنٹ یونیورسٹی کے یوجین ٹین کہتے ہیں کہ ’ہم سنگاپور میں رہنے والے شہری سنگاپور کو ایک فائن سٹیٹ کہتے ہیں جو کہ دبے چھپے الفاظ میں ان سارے فائنز یا جرمانوں کی طرف اشارہ ہے جو ہم کسی معاشرتی بداخلاقی پر بھرتے ہیں۔‘

ٹین کہتے ہیں کہ 2004 میں قانون میں تبدیلی کے باوجود سنگاپور میں ان لوگوں کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہو گا جو چیونگ گم کھاتے ہیں۔

’گم کے نشانات کے بغیر فٹ پاتھ کہیں زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔‘

لندن میں پڑھائی کے لیے آنے والے سنگاپور کے ایک طالبِ علم پیی یی یو گم نہ استعمال کرنے کے کئی فوائد دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میرے ساتھ برطانیہ کے کئی حصوں میں متعدد مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ لیکچر کے دوران، تھیئٹروں میں اور جماعتوں میں میرے جسم کے کئی حصوں نے تازہ اور سوکھی ہوئی چیونگموں کو چھوا۔‘

’سنگاپور میں ہمارا ماحول صاف ستھرا ہے۔‘