’ایک دن کچھ ایسا کروں گا کہ دنیا میرا نام جان لے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption معاون پائلٹ نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے کہا تھا ’ایک دن سب میرا نام جان لیں گے‘

فرانس میں جرمن مسافر طیارے کو ممکنہ طور پر جان بوجھ کر تباہ کرنے والے معاون پائلٹ کی سابقہ گرل فرینڈ نے انکشاف کیا ہے کہ آنڈریاز لوبٹز نے انھیں کہا تھا کہ ایک دن وہ ایسا کچھ کریں گے کہ سب ان کا نام جان لیں گے۔

جرمن اخبار بلڈ کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ایک سال قبل لوبٹز نے ان سے کہا تھا ’ایک دن میں کچھ ایسا کروں گا جس سے سارا نظام تبدیل ہو جائے گا، اور ہر کوئی میرا نام جانے گا اور مجھے یاد کرے گا۔‘

’جرمن ونگز‘ کا مسافر طیارہ گذشتہ منگل کو بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈزلڈورف جاتے ہوئے فرانسیسی پہاڑی سلسلے پرگر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اخبار کے مطابق لوبٹز کی سابقہ دوست جو کہ خود بھی فضائی میزبان ہیں گذشتہ برس آنڈریاز لوبٹز کے ساتھ پانچ ماہ ہوائی سفر کر چکی ہیں اور وہ طیارے کے حادثے کی خبر پر ’بہت زیادہ حیران‘ ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوبٹز نے طیارہ جان بوجھ کر گرایا ہے تو اس کی وجہ ’ان کی صحت کے مسائل تھے، وہ سمجھ چکے تھے کہ ان کا لفتھانزا میں بطور کپتان یا طویل فاصلے تک مسافت کرنے والے پائلٹ بننے کا خواب عملی طور پر ناممکن تھا۔‘

ان کی سابقہ گرل فرینڈ نے بلڈ کو مزید بتایا کہ ان کے درمیان علیحدگی ہوچکی تھی ’کیونکہ یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ وہ کسی مسئلے کا شکار ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا انھیں ڈراؤنے خواب بھی آتے تھے اور اکثر و بیشتر وہ رات کو یہ چیختے ہوئے اٹھ جاتے ’ہم نیچے گر رہے ہیں۔‘

آنڈریاز لوبٹز نے جس فلائٹ سکول سے تربیت حاصل کی تھی وہاں پر ان کے ایک ساتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ آنڈریاز لوبٹز فرنچ ایلپس کے علاقے میں چھٹیوں میں گلائیڈنگ کے لیے جانے کی وجہ سے اچھی طرح واقف تھے۔

ایک فرانسیسی اخبار میٹرو نیوز کے مطابق آنڈریاز لوبٹز نے قریب ہی واقع ایک فلائنگ کلب میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں بھی گزاری تھیں۔

اس سے قبل جرمنی میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ معاون کپتان نے اپنی بیماری کی تفصیلات کو ایئرلائن سے چھپایا تھا۔

استغاثہ کے بقول آندریا لوبٹز کے گھر سے ان کی بیماری سے متعلق بعض پھٹے ہوئے پرچے ملے ہیں جن میں سے بعض پرانے ہیں اور بعض جہاز تباہ ہونے والے دن کے بارے میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارہ گرنے والے علاقے فرنچ ایلپس سے آنڈریاز لوبٹز اچھی طرح واقف تھے

آندریاز لوبٹز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ذہنی بیماری یا ڈپریشن کا شکار تھے، حالانکہ استغاثہ کی جانب سے ان کی بیماری کا نام واضح نہیں کیا گیا ہے۔

وائس ریکارڈنگ سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق آندریاز لوبٹز نے جان بوجھ کر کاک پٹ کا دروازہ بند رکھا اور آٹھ منٹ تک جہاز کو فرانس کے پہاڑوں میں اتارا جس کے بعد جہاز تباہ ہوگیا۔

جرمنی میں استغاثہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے لوبٹز کے دو گھروں سے بعض طبی دستاویزات برآمد کی ہیں جن سے اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ وہ بیمار تھے اور ’ان کا باقاعدہ علاج جاری تھا‘

دوسری جانب جرمن ونگز کی مالک کمپنی لفتھانزا نے ایسے نئے قواعد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پائلٹس کو کاک پٹ میں کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑا جائے۔

اسی بارے میں