یمن میں سعودی مداخلت پر امریکہ کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ سے قبل سعودی عرب نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے کو یمن میں حوثی قبائل کے خلاف پاکستان سمیت پانچ ممالک کی حمایت حاصل ہے

امریکی صدر براک اوباما نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں موجود حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر تیسرے روز بھی بمباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ باغیوں نے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں مزید پیش قدمی کی ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں کے حامی اور سابق صدر صالح کی جانب سے جنگ بندی کر کے بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی جا چکی ہے تاہم اس پر یمن کی حکومت یا سعودی عرب سمیت اس کے اتحادی ممالک کا کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ان کی فضائی کارروائی پر اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہان نے بات چیت میں اتفاق کیا کہ یمن میں سیاسی مذاکرات کے ذریعے دیربا استحکام ان کا مقصد ہے۔

اس سے قبل سعودی خبر رساں ایجنسی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب کو یمن کے حوثی قبائل کے خلاف مراکش، مصر اور سوڈان کی حمایت حاصل ہے۔

سنیچر کو مصر میں عرب لیگ کے دو روزہ اجلاس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں بحت کا مرکزیمن کی صورتحال ہی ہوگی۔اس اجلاس میں یمن کے صدر ہادی بھی شرکت کر رہے ہیں جو عدن میں شیعہ باغیوں کی پیش قدمی کے بعد تین روز قبل ہی ملک سے نکلے تھے۔

دوسری جانب ایران نے یمن میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کی ایک بار پھر مذمت کی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جمعے کو ایک بیان میں کہا:

’ انھیں اسے بند کرنا ہو گا، ہر کسی کو بات چیت کرنے کی حوصلہ افزائی اور یمن میں قومی سطح پر مصالحت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بجائے اس کہ یمنی شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا جائے۔‘

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رہیں گے لیکن وہ ابھی وہاں زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔خیال رہے کہ امریکہ نے ایک ایسے وقت میں یمن کی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جب وہ دوسری جانب عراق میں ایران کے ساتھ ملکر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہا ہے۔

ادھر سعودی میڈیا کے مطابق امریکہ نےجمعے کو بحیرہ احمر میں پھنسے دو سعودی پائلٹس کو ریسکیو فراہم کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایف 15 فائٹر طیارے میں تکنیکی خرابی ہو گئی تھی جس کے بعد سعودی حکومت نے پائلٹس کی بحفاظت واپسی کے لیے امریکہ سے مدد کی درخواست کی تھی۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سعودی فضائی حملوں کے بعد یمن میں تباہی کے مناظر

یمن کی وزارتِ صحت کے مطابق فضائی کارروائیوں میں اب تک کم از کم چھ بچوں سمیت 39 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

صنعا کے ایک رہائشی محمد الجباہی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خوف کی وجہ سے اپنے اہلِ خانہ سمیت رات کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔

’جب جنگی جہاز آتے ہیں تو طیارہ شکن توپوں کی فائرنگ سے میرے بچے ڈر کر رونے لگتے ہیں۔‘

فضائی حملے دارالحکومت صنعا اور حوثی باغیوں کے شمال میں مضبوط گڑھ صعدہ میں کیے گئے۔

دوسری جانب حوثی باغیوں کی بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی میں پیش قدمی جاری ہے اور برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق باغیوں نے عدن سے مشرق کی جانب شہر شاقرا پر قبضہ کر لیا ہے۔

یمن کے وزیرِ خارجہ ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ ملک میں حوثی باغیوں کی جارحیت روکنے کے لیے کارگر فضائی حملے درکار ہیں لیکن انھیں باغیوں کی پیش قدمی رکتے ہی ختم ہو جانا چاہیے۔

اسی بارے میں