عبوری معاہدے کی ڈیڈ لائن سے قبل پہلا مشترکہ اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عبوری معاہدے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی

ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتیں سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عبوری سمجھوتے کی ڈیڈ لائن سے ایک روز قبل اپنا پہلہ مشترکہ اجلاس کر رہی ہیں۔

برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہوم لینڈ نے سوئیٹزلینڈ پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ’ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے تاہم ایٹمی بم کو ایران کی پہنچ سے دور رکھنا ہوگا۔‘

ادھر ایران کا کہنا ہے کہ ڈیل تو ممکن ہے لیکن مذاکرات ایک مشکل مرحلے میں ہیں اور بہت سے معاملات اب بھی طے ہونا باقی ہیں۔

پیر کوسوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے مذاکرات کو کسی مقام تک پہنچانے کے لیے اپنے تمام سفری پروگرام کو منسوخ کر دیا ہے۔ روس، چین ، اور برطانیہ کے نمائندے بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔

امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتیں ’مرحلہ وار‘ معاملات کو حل کرنے پر متفق ہوئے ہیں لیکن حل طلب معاملات اب بھی باقی ہیں۔

دونوں جانب جن مختلف امور پر مفاہمت کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان میں یہ نکات بھی شامل ہیں کہ ایران یورینیم افزودگی کے لیے کتنے سینٹی فیوجز چلا سکتا ہے اور یہ بھی کہ طبّی تحقیق کے لیے ایران کس حد تک جوہری افزودگی کر سکتا ہے۔

لوزین میں موجود بی بی سی نامہ نگار باربرا پلِٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر کم ازکم ایک دہائی یعنی دس سالہ پابندی عائد کی جائے گی جس میں سخت معائنہ کاری بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اب بھی اس پر باہمی اتفاق نہیں ہو سکا کہ ایران کو کتنے عرصے تک اپنا پروگرام محدود رکھنا ہوگا اور اس پر عائد پابندیوں سے اسے کتنے عرصے میں چھٹکارا مل سکے گا۔

سکیورٹی کونسل کے پانچ ممبران اور جرمنی پر مشتمل عالمی طاقتوں کا گروپ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ ایران کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

عالمی طاقتیں ایران سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنی سنٹری فیوجز مشینوں میں دو تہائی کمی کرے اور جوہری مواد کے ذخیرے کو روس کے حوالے کر دے۔ کچھ خبر رساں اداروں نے ایران کے ساتھ معاہدے کی خبریں جاری کیں لیکن ایران سفارت کاروں نے انھیں صحافیانہ قیاس آرائیاں کہہ کر مسترد کر دیا۔

امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دو بنیادی معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ ایک معاملہ ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کے طریقہ کار سے متعلق ہے جبکہ دوسرا معاملہ آنے والےبرسوں میں ایران کی جوہری دھماکے کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ ان معاملات کو حل کرنے کے لیے مختلف تجاویز دی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک صحیع معنوں میں ہم آہنگی سامنے نہیں آسکی ہے تاہم یہ بھی ہے کہ کوئی فریق مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔