تیونس: ہزاروں افراد کا دہشت گردی کے خلاف مارچ

احتجاجی مارچ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارچ میں شرکا نے احتجاجی بینر اٹھائے ہوئے جن پر لکھا تھا ’ہم نہیں ڈرتے‘ اور ’ہم باردو ہیں‘

تیونس کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے دہشت گردی کے خلاف مارچ کیا ہے۔

انھوں نے’تیونس آزاد ہے، دہشت گردی آؤٹ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے باردو عجائب گھر تک مارچ کیا، جہاں دہشت گرد حملے میں 21 سیاح ہلاک کر دیے گئے تھے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سمیت کئی دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی اس تقریب میں حصہ لیا۔

اس سے چند گھنٹے قبل تیونس کے حکام نے کہا تھا کہ انھوں نے حملے کے حوالے سے ایک اہم مشتبہ شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔

عجائب گھر پر ہونے والی تقریب میں تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے شہریوں کے دہشت کے آگے نہ جھکنے کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’تیونس کے لوگوں نے آج یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے آگے نہیں جھکیں گے، اور بطور ہر مرد اور ہر عورت وہ اپنے ملک کا دفاع کریں گے۔ جب تیونس کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو پوری قوم ایک ہو کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔‘

18 مارچ کو بندوق برداروں نے عجائب گھر کے اندر داخل ہو کر 21 سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا جن میں برطانوی، جاپانی، فرانسیسی، اطالوی اور کولمبیائی افراد شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مارچ میں فرانسیسی صدر کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی شرکت کی

پولیس کے مطابق مارچ میں 10,000 سے زیادہ افراد شامل تھے۔ اتوار کو صدر اولاند نے اعلان کیا تھا کہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی ایک فرانسیسی خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی ہے۔

عجائب گھر میں مرنے والوں کی یاد میں پتھر کی ایک تعزیتی پلیٹ بھی لگائی گئی۔

صدر اولاند نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں فرانس کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے چار فرانسیسی شہری یہاں دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں سو اس مارچ میں شرکت کرنا ضروری تھا۔‘

مظاہرین نے تیونس کے جھنڈے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’نہیں ڈرتے‘ اور ’ہم باردو ہیں۔‘ مارچ کے گرد سکیورٹی بڑی سخت تھی۔

احتجاج کرنے والے ایک شخص کمال سعد نے خبر رساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ ’ہم نے دکھا دیا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، تیونس اعتدال پسند ہے، اور یہاں دہشت گردوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘

بائیں بازو کی چند جماعتوں نے مارچ کا بائیکاٹ کیا۔ ان کا اعتراض مارچ میں شامل اسلامی پارٹی پر تھا جو کہ بقول ان کے ملک میں اسلامی انتہا پسندی کی لہر کی ذمہ دار ہے۔

مارچ سے چند گھنٹے قبل تیونس کے حکام نے حملے کرنے والوں کے مبینہ رہنما لقمان ابو صخرا کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ان نو مسلح افراد میں سے ایک ہیں جنھیں سنیچر کو ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔

ایک سرکاری ترجمان نے ابو صخرا کو تیونس کے سب سے خطرناک دہشت گردوں میں سے ایک کہا۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق یہ جنگجو عقبہ ابن نافع بریگیڈ کے رکن تھے جو ایک جہادی گروہ ہے اور اس نے پہلے بھی یمن کی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے کیے ہیں۔

تیونس کے وزیرِ اعظم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ صخرا جو کہ الجیریا کا شہری تھا، ملک کے مغربی حصے قفصہ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔

گذشتہ ہفتے حکام نے درجنوں افراد کو عجائب گھر پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ روابط کے شک میں گرفتار کیا تھا۔

اسی بارے میں