’معاہدے کے حقیقی امکانات پیدا ہوئے تو ہی واپسی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بات کے پیسے نہیں ملتے کہ پُرامید دکھائی دوں: سرگئی لاوروو

ایران کے جوہری پروگرام پر عبوری سمجھوتے کی ڈیڈ لائن قریب آتی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں پیر کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں مذاکرات کا ایک نیا دور جاری ہے۔

لوزین سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ مذاکرات کے اس فیصلہ کن دور میں شریک نہیں ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اگر منگل کی رات کی ڈیڈ لائن تک کسی معاہدے کے حقیقی امکانات پیدا ہو گئے تو روسی وزیر خارجہ مذاکرات میں واپس آ جائیں گے۔‘

اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ آیا ان کے خیال میں کوئی ڈیل متوقع ہے تو ان کا جواب تھا کہ انھیں ’اس بات کے پیسے نہیں ملتے کہ پُرامید دکھائی دوں۔‘

یاد رہے کہ دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے وزرائے خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب سے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ملاقات کر رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ 18 ماہ سے جاری یہ مذاکرات فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

جوہری پروگرام سے متعلق عبوری معاہدے کی ڈیڈ لائن منگل کو ختم ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اب بھی اس پر باہمی اتفاق نہیں ہو سکا کہ ایران کو کتنے عرصے تک اپنا پروگرام محدود رکھنا ہوگا

مذاکرات کاروں کی کوشش ہے کہ منگل کی رات تک وہ ایک سیاسی ڈھانچے پر متفق ہو جائیں جو جس کی بنیاد پر تکنیکی تفصیلات کے حوالے سے ایک وسیع البنیاد معاہدہ طے پا سکے۔ اس وسیع البنیاد معاہدہ کے لیے 30 جون کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

پیر کوسوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف کر رہے ہیں جبکہ امریکہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے علاوہ روس، چین ، اور برطانیہ کے نمائندے بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ ڈیل تو ممکن ہے لیکن مذاکرات ایک مشکل مرحلے میں ہیں اور بہت سے معاملات اب بھی طے ہونا باقی ہیں۔

’کوئی مفاہمت نہیں‘

توقع تھی کہ پیر کو جب چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے مندوب محمد جاوید ظریف سے ملاقات کریں گے تو فریقین کے درمیان بات چیت مشکل دور میں داخل ہو جائے گی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈیریکا ماگھرینی بھی مذاکرات کے موقع پر موجود ہیں۔

پیر کو برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہوم لینڈ نے سوئٹزلینڈ پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ’ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے تاہم ایٹمی بم کو ایران کی پہنچ سے دور رکھنا ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ کسی بات پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عبوری معاہدے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی

’لیکن یہ ڈیل یا مفاہمت ایسی ہونی چاہیے جس میں جوہری بم ایران کی دسترس سے باہر ہو جائے۔ اس (بم) کے معاملے پر کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔‘

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ لوزین میں جمع مذاکرات کار ’ تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس معاہدے کو تحریری شکل دینا شروع کر دیں گے۔‘

کون کیا چاہتا ہے؟

  • امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین چاہتے ہیں کہ ایران دس سال سے زائد عرصے کے لیے اپنا حساس ترین جوہری پروگرام معطل کر دے۔
  • ایران کے مذاکرات کار حامد بیدنِجاد کہتے ہیں کہ 15 سال تک جوہری پروگرام بند رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا مگر دس سال کے لیے ایسا کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
  • ابتدا میں ایران نے اپنی تقریباً دس10000 سینٹری فیوجز مشینوں کو آپریشنل رکھنے کا اصرار کیا تھا۔
  • نومبر 2014 میں امریکہ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ 6000 سینٹری فیوجز میں کام جاری رکھنے کو تسلیم کر سکتا ہے مگر ایرانی حکام کا کہنا کہ وہ ساڑھے چھ سے سات ہزار تک سینٹری فیوجز کو آپریشنل رکھنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عالمی طاقتیں ایران سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنی سینٹری فیوجز مشینوں میں دو تہائی کمی کرے

لوزین میں موجود بی بی سی نامہ نگار باربرا پلِیٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر کم ازکم ایک دہائی یعنی دس سال کی پابندی عائد کی جائے گی جس میں سخت معائنہ کاری بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اب بھی اس پر باہمی اتفاق نہیں ہو سکا کہ ایران کو کتنے عرصے تک اپنا پروگرام محدود رکھنا ہوگا اور اس پر عائد پابندیوں سے اسے کتنے عرصے میں چھٹکارا مل سکے گا۔

عالمی طاقتیں ایران سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنی سینٹری فیوجز مشینوں میں دو تہائی کمی کرے اور جوہری مواد کے ذخیرے کو روس کے حوالے کر دے۔ کچھ خبر رساں اداروں نے ایران کے ساتھ معاہدے کی خبریں جاری کیں لیکن ایران سفارت کاروں نے انھیں صحافیانہ قیاس آرائیاں کہہ کر مسترد کر دیا۔