رہنماؤں کی معلومات غلطی سے ای میل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جن لوگوں کے بارے میں تفیصلات غلطی سے ای میل ہوئیں ان میں امریکہ کے صدر براک اوباما اور جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل بھی شامل ہیں

پچھلے سال نومبر میں آسٹریلیا کے شہر برزبین میں ہونے والی جی ٹوئنٹی سربراہ کانفرنس کے موقعے پر 31 عالمی رہنماؤں کی نجی تفصیلات غلطی سے ایشیئن کپ آسٹریلیا کے منتظمین کو ای میل کر دی گئی تھیں۔

جن لوگوں کے بارے میں تفیصلات غلطی سے ای میل ہوئیں ان میں امریکہ کے صدر براک اوباما اور جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل بھی شامل ہیں۔

ای میل ہونے والی تفصیلات میں عالمی سرابرہان کے پاسپورٹوں کے نمبر بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ای میل میں ان 31 عالمی رہنماؤں کی پیدائش کی تاریخیں بھی تھیں لیکن ان کے ذاتی پتے یا ان سے رابطہ کرنے سے متعلق معلومات نہیں تھیں۔

معلوم ہوا ہے کہ آسٹریلیا کے امیگریشن کے محکمے کے ایک کارکن نے غلطی سے یہ ای میل بھیجی تھی۔ تاہم اس غلطی کے بعد امیگریشن کے محکمے نے فیصلہ کیا کہ جی ٹوئنٹی میں شریک سربراہان کو الرٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

امیگریشن کے محکمے کے ایک ڈائریکٹر نے جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ ’چونکہ عالمی سربراہان کی نجی معلومات ادھر ادھر ہونے کا خدشہ بہت کم ہے اور یہ کہ اس ای میل کے مزید جگہوں پر بھیجے جانے کو محدود کرنے کے اقدمات کر لیے گئے ہیں، میں موکلین کو اس بارے میں آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔‘

یہ بات امیگریشن کے محکمے کے ڈائریکٹر نے جی ٹوئنٹی کے سربراہان کے بارے میں غلط مقام پر ای میل بھیجے جانے کے بعد آسٹریلیا کے پرائیوسی کمشنر کو لکھی تھی۔ ان معلومات کو اطلاعات تک رسائی کی آزادی کے قانون کے تحت ایک درخواست دائر کر کے برطانوی اخبار ’گارڈیئن‘ نے حاصل کیا۔

امیگریشن کے افسر کا کہنا تھا کہ عالمی سربراہان کے متعلق نجی معلومات والی ای میل ارسال کرنے والوں اور جنھیں یہ ای میل موصول ہوئی، دونوں نے اس واقعے کے دس منٹ کے اندر اندر سب کچھ ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ ایشیئن کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے منتظمین کے مطابق وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ای میل تک کسی کی رسائی ہو سکتی ہے یا یہ کہ اسے سرورز پر سٹور کیا جا سکتا ہے۔

اس واقعے کو ’انسانی غلطی‘ کا نتیجہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ای میل بھیجنے والا مائیکروسافٹ آؤٹ لُک کے آٹو فِل فنکشن یا خالی لائنوں کے از خود بھرنے کے عمل پر نگاہ ڈالنا بھول گیا تھا۔

حکومت کے ایک اہلکار کے مطابق ’اس ای میل کے پیچھے کوئی منظم یا ادارتی چیز نہیں تھی۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ان افراد کی ذاتی تفصیلات جن میں ان کے نام، عہدے اور پیدائش کی تاریخیں شامل ہیں، ان کی ممتاز حیثیت کی وجہ سے عموماً پہلے ہی عوام کو معلوم ہوتی ہیں۔‘

اسی بارے میں