تکریت میں دولتِ اسلامیہ حکومتی عمارتوں سے پسپا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج اور شیعہ ملیشیانے آپریشن شروع کیا تھا

عراقی فوج کا کہنا ہے کہ تکریت میں وہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں کو حکومتی عمارتوں سےنکالنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

سابق صدر صدام کے ایک محل کے قریب بھی شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مارچ کے پہلے ہفتے سے فوج، اس کے اتحادی قبائل اور شیعہ ملیشیا تکریت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔

ابتدا میں تو تیزی سے پیش قدمی کی گئی لیکن گذشتہ ہفتوں سے انھیں شہر کے مرکز پر قبضے میں شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔

ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شہر میں سرکاری عمارتوں پر حکومتی قبضہ ایک اہم پیش رفت ہے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کہ مطابق صلاح الدین صوبے جہاں تکریت واقع ہے کہ گورنر امار حقمت کا کہنا ہے کہ شہر کے چالیس فیصد علاقے پر سرکاری افواج کا قبضہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری افواج صدارتی محل کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں اور اس کے کچھ حصوں میں داخل بھی ہوگئی ہیں، اگلے چوبیس گھنٹوں میں تمام شہر ہمارے قبضے میں ہوگا۔‘

حالیہ دنوں میں عراقی حکومت کی درخواست پر امریکہ نے تکریت میں دولتِ اسلامیہ کہ ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی ہے اور ایران کی انقلابی ’قدس فورس‘ کے کمانڈر جنرل سلیمانی کی قیادت میں متعدد ماہرین تکریت میں جاری زمینی کارروائی میں شامل فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے درمیان رابطہ کاری کا کام بھی سرانجام دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ تکریت سابق صدر صدام حسین کا آبائی شہر ہے اور اس پر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے عراقی فوج اور شیعہ ملیشیانے 2 مارچ سے کارروائی کا آغاز کیا تھا اور اتحادیوں کی فضائی مدد حاصل نہ ہونے کے باوجود بڑی تیزی سے پیش قدمی کی تھی تاہم شہر کے مرکز میں دولتِ اسلامیہ کی جنگی رکاوٹوں کی وجہ سے پیش قدمی رکی ہوئی تھی۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اس وقت عراق اور شام میں بڑے علاقے پر قابض ہیں جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں