نائجیریا کے انتخابات میں جنرل محمد بخاری جیت گئے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ووٹروں کا خیال ہے کہ جنرل بخاری بوکو حرام کو شکست دینے کے زیادہ اہل ہیں

محمد بخاری نے نائجیریا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ نائجیریا کی تاریخ میں حزبِ اختلاف کی کسی جماعت کی پہلی فتح ہے۔

سابق جنرل محمد بخاری کی جماعت آل پروگریسیو کانگرس کا کہنا ہے کہ حالیہ صدر گڈلک جوناتھن نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جنرل بخاری کو مبارک باد دی ہے۔

قومی الیکٹورل کمیشن کے مطابق محمد بخاری نے صدر جوناتھن کو 20 لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ اس وقت نائجیریا کی سڑکوں پر جنرل بخاری کے حامی جشن منا رہے ہیں تاہم اے پی سی نے اپنے بیان میں حامیوں کو مخالفین پر کسی قسم کے حملے کرنے سے منع کیا ہے۔

نئے صدر بدھ کی شام پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ نائجیریا کے عوام نے دنیا کے سامنے ثابت کیا ہے کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ موقع ہے زخموں کو بھرنے کا اور مستقبل کے لیے ملکر کام کرنے کا۔‘

گڈلک جوناتھن کیوں ہارے؟

نائجیریا کے انتخابات میں ’سیاسی مداخلت‘ کے الزامات

پرتشدد واقعات کے بعد بقیہ پولنگ اتوار کو

سابق جنرل محمد بخاری نے 36 ریاستوں مکے دوتہائی حصوں میں گڈلک جوناتھن سے 25 گُنّا زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

انھیں زیادہ غلبہ ملک کی شمال مغربی ریاستوں میں حاصل ہوا۔ یہ وہ علاقے ہیں جنھیں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے سب سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

مبصرین نے عمومی طور پر انتخابات کو سراہا ہے تاہم بعض جگہ سے دھاندلی کی خبریں بھی ملی ہیں، جن کے باعث اندیشہ ہے کہ احتجاج اور تشدد پھوٹ سکتا ہے۔

تاہم جنرل بخاری کی آل پروگریسیو کانگریس (اے پی سی) نے صدر جوناتھن کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’وہ اس تحریک کے ہیرو ہیں۔ کشیدگی جلد ہی ختم ہو جائے گی۔‘

روئٹرز کے مطابق جماعت کے ترجمان نے کہا: ’جو کوئی انتخابات میں شکست کے بعد گڑبڑ کو ہوا دینے کی کوشش کرے گا، وہ صرف اپنے بل بوتے پر ایسا کرے گا۔‘

یاد رہے کہ جوناتھن 2010 سے نائجیریا کے حکمران ہیں۔

نائجیریا کو اسلامی شدت پسند تنظیم بوکوحرام سے حملوں کا سامنا ہے جن میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ صدر کے مقابلے پر جنرل بخاری بوکو حرام کو شکست دینے کے زیادہ اہل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption محمد بخاری(دائیں) اور گڈلک جوناتھن( بائیں) مصافحہ کرتے ہوئے

محمد بخاری کون؟

  • شمالی نائجیریا سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ سابق فوجی جنرل محمد بخاری چوتھی بار صدارتی امیدوار بنے تاہم یہ ان کی پہلی کامیابی ہے۔
  • انھوں نے دسمبر 1983 میں نائجیریا میں فوجی انقلاب آنے کے بعد جنوری 1984 سے اگست 1985 تک ملک کی قیادت کی۔
  • 1985 میں ان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بھی ایک اور فوجی انقلاب بنا۔انسانی حقوق کےحوالے سے ان کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں رہا۔
  • بظاہرایک بار شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ان پر حملہ بھی کیا۔
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنرل بخاری کے حامی اپنے رہنما کی جیت کی خبر سن کر سڑکوں پر نکل آئے

بی بی سی کے نائجیریا کے نامہ نگار ول راس کا تجزیہ

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ حزبِ اختلاف کے جنرل بخاری نے معرکہ مار لیا۔ یہ نائجیریا کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ اس سے قبل اقتدار میں موجود کسی بھی صدر نے انتخابات میں شکست نہیں کھائی تھی، اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے نائجیریا نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

1960 میں برطانیہ سے آزادی پانے کے بعد سے نائجیریا میں متعدد بغاوتیں پھوٹیں اور دھاندلی سے بھرپور کئی انتخابات منعقد کیے گئے۔ حالیہ انتخابات میں بھی خطرناک مذہبی اور علاقائی اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں، اور اب بھی تشدد کا خدشہ موجود ہے۔

لیکن بہت سے نائجیریائی یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں پہلی بار یہ طاقت ملی ہے کہ وہ کسی نااہل حکومت کو اپنے ووٹ کے زور پر چلتا کر دیں۔

مقامی وقت کے مطابق چھ بجے شام تک آنے والے نتائج کے مطابق جنرل بخاری نے ڈیڑھ کروڑ ووٹ حاصل کیے تھے، جب کہ گڈلک جوناتھن کے ایک کروڑ 28 لاکھ ووٹ تھے۔