نائجیریا کے انتخابات میں سابق فوجی حکمران کو برتری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ انتخابات کو نائجیریا کی آزادی کے بعد لڑے جانے والا سب سے سخت ترین مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے

نائجیریا کے صدارتی انتخابات کے اب تک آنے والے نتائج میں سابق فوجی حکمران محمد بہاری کو موجودہ صدر گڈلک جوناتھن پر واضع برتری حاصل ہے۔

تاہم زیادہ آبادی والی ریاست لاگوس اور ریورز سے ابھی نتائج آنا باقی ہیں۔

اب تک نصف سے زیادہ ریاستوں سے نتائج آ چکے ہیں جن کے مطابق جنرل بہاری کی جماعت آل پروگریسیو کانگریس تقریباً 20لاکھ ووٹوں سے آگے ہے۔

نائجیریا کے انتخابات میں ’سیاسی مداخلت‘ کے الزامات

منگل کو مزید نتائج کا اعلان کا متوقع ہے اور ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہارنے والی جماعت دھاندلی کا الزام لگائے گی۔

ملک کے الیکشن کمیشن نے 18 ریاستوں اور دارالحکومت ابوجا کے نتائج کے اعلان کے بعد پیر کی رات مزید نتائج کے اعلان کا عمل معطل کر دیا تھا۔

اب تک کے نتائج کے مطابق صدر جوناتھن کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو تقریباً 64لاکھ اور جنرل بہاری کی جماعت آل پروگریسیو کانگریس کو 85 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔

حالیہ انتخابات کو نائجیریا کی آزادی کے بعد سے ہونے والے انتخابات میں سخت ترین مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ صدر جوناتھن کی جماعت 1999 سے لے کر اب تک نائجیریا کی سیاست میں غالب رہی ہے لیکن ان انتخابات میں اسے جنرل بہاری کی جماعت کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کی بھی اطلاعات ہیں اس لیے امریکہ اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں ووٹوں کی گنتی کے دوران ممکنہ ’سیاسی مداخلت‘ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسر ی جانب ملک کے الیکشن کمیشن نے اس تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔ ادارے کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کسی مداخلت کی قطعاً کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں