منی لانڈرنگ کیس: ایم کیو ایم کے محمد انور کی ضمانت پر رہائی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

لندن میں انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں منگل کو حراست میں لیے گئے پاکستانی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور کو جولائی تک کے لیے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

ایم کیو ایم نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں محمد انور کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے بھی اپنی ویب سائٹ پر حراست میں لیےگئے شخص کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ 64 سالہ شخص کو شمالی لندن سے کالے دھن کو سفید کرنے کے شبہے میں حراست میں لینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق انھیں جولائی کے وسط میں دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

لندن پولیس نے دس گھنٹے تک محمد انور سے تفتیش کی جبکہ 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک محمد انور کی رہائش گاہ کی تلاشی بھی لی گئی۔

اس سے قبل میٹروپولٹن پولیس کے ترجمان سائمن فریزر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حراست کے بعد اس شخص کو مرکزی لندن کے ایک تھانے منتقل کیا تھا جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

ان کی رہائش گاہ کی بھی مکمل تلاشی لی گئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ گرفتاری پہلے سے جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے بدھ کی صبح تصدیق کی تھی کہ لندن میں محمد انور کو حراست میں لیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدھ کو شمالی لندن کے ایک گھر سے گرفتار ہونے والے شخص کے نام کا پہلا حرف (ایف ) بتایا گیا ہے

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’برطانوی وقت کے مطابق صبح نو بجے محمد انور بھائی کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو تحفظات ہیں اس کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ اس وقت سینٹرل لندن پولیس سٹیشن میں موجود ہیں۔‘

حیدر عباس رضوی کے مطابق ایم کیو ایم برطانوی قوانین اور عدالتی نظام پر یقین رکھتی ہے اور مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ محمد انور کے ساتھ قانونی معاونت کے لیے ٹیم موجود ہے۔

محمد انور ایم کیو ایم کی لندن رابطہ کمیٹی کے رکن ہیں، حیدر عباس رضوی کے مطابق وہ گذشتہ دو دہائیوں سے پارٹی سے منسلک ہیں اور وہ لندن میں ہی مقیم رہے ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان نے کہا کہ اس کیس میں پانچ افراد اور بھی ملوث ہیں جو کہ ضمانت پر ہیں۔

لندن منی لانڈرنگ کیس دو شخص گرفتار

پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیس کے اس مرحلے پر گرفتار اشخاص کی شناخت کے بارے میں قانونی وجوہات کی بنا پر اس سے زیادہ کچھ ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ لندن میں پانچ دسمبر سنہ 2013 میں پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے گھر پر چھاپے کے بعد شروع کیے جانے والے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں مغربی لندن سے دو گھروں پر چھاپے مار کر دو افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

ان گرفتاریوں سے کچھ عرصہ قبل پولیس نے لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کےقتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے جہاں سے مبینہ طور پر بھاری مقداد میں نقدی برآمد کی گئی تھی۔

Image caption ’برطانوی وقت کے مطابق صبح نو بجے محمد انور بھائی کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو تحفظات ہیں اس کے شبہ میں گرفتار کیا گیا‘

اس کے بعد لندن پولیس نے ڈاکٹر فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔

اس کیس میں جاری تحقیقات کے دوران تین جون 2014 میں پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا تھا اور سات جون کو انھیں ابتدائی تفتیش کے بعد جولائی تک ضمانت پر رہا کر دیا تھا تاہم بعد میں ان کی ضمانت میں 14 اپریل 2015 تک توسیع کی دی گئی۔

بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے لیکن الطاف حسین نے ایک بار اپنے ایک ٹیلی فونک خطاب میں کہا تھا کہ لندن پولیس نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے شخص کی رہائش گاہ کی تلاشی جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے گذشتہ سال جون میں الطاف حسین کو بھی منی لانڈرنگ الزامات میں گرفتار کیا تھا اور بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا

پولیس کے بیان میں گرفتار ہونے والے دیگر افراد کے بارے میں مختصر تفصیل بتائی گئی ہے جن میں سے ایک کی عمر 73 سال، ، ایک کی عمر 44 سال ہے انھیں پانچ دسمبر سنہ 2013 میں حراست میں لیا گیا تھا اور ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد انھیں ضمانت ہر رہا کر دیا گیا تھا۔ ان کی ضمانت اپریل تک ہے۔

دیگر گرفتار ہونے والے افراد میں سے ایک کی عمر 61 برس ہے اور اسے تین جون سنہ 2014 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ شخص بھی اپریل تک ضمانت پر ہے۔

اس کیس میں دو اور افراد کو بھی عارضی حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کی عمریں اکتالیس اور ستائس برس کی بتائی گئی ہیں۔

لندن پولیس کا مزید کہنا تھا کہ کسی شخص کی ضمانت پر رہائی کا مطلب ہے کہ اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسے پولیس سٹیشن میں پیش ہونے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ باضابط طور پر ان افراد کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے اور جبکہ تک فرد جرم عائد نہیں کی جاتی ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔

اسی بارے میں