لندن کی بسوں میں پناہ کی تلاش

لندن بس
Image caption کئی پناہ کے متلاشی ساری ساری رات بسوں میں سفر کر کے گزار دیتے ہیں

ساری رات بس میں گزارنا بدقسمتی کی ایک نشانی لگتی ہے لیکن بی بی سی کے ڈیمیئن زانے لکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی قسمت میں ایسا لکھا ہوتا ہے جو انھیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔

رات کے دو بجے ہیتھرؤ ایئرپورٹ بالکل خالی پڑا ہے۔ وہاں موجود کچھ لوگوں میں سے ایک بس کا انتظار کر رہا ہے۔

یہ ان کے رات کے مشاغل میں سے ایک ہے کہ وہ لندن کی بسوں کے نیٹ ورک میں رات کی تاریکی میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔

یہ 44 سالہ احمد ہیں جو ان کا حقیقی نام نہیں ہے۔ وہ یہاں سیاسی پناہ کی تلاش میں ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو ایک بڑے کینوس کے کوٹ میں لپیٹ رکھا اور ان کے گھنے سفید بال ایک طرف کنگھی کیے ہوئے ہیں۔

احمد اپنا سفر تقریباً رات کے 11 بجے لندن کے مرکز لیسٹر سکوائر سے شروع کرتے ہیں، جو کہ رات کو بھی لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔

یہ دوسروں سے پوشیدہ رہنے کی ایک بہترین جگہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ ان سب لوگوں کے ساتھ جو شراب خانوں اور کلبوں میں جاتے ہیں، صبح چار بجے تک رہ سکتے ہیں۔‘

لیکن احمد کا رات کا سفر بس نمبر 24 سے شروع ہوتا ہے جو سیدھا ہیمسٹڈ ہیتھ جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ اس بس سے اترتے ہیں اور دوسری بس لیتے ہیں جو وہیں جا رہی ہوتی ہے جہاں سے وہ آئے ہیں۔‘

جب تک وہ دوبارہ مرکزی لندن پہنچتے ہیں، رات کی بسیں چل پڑتی ہیں اور وہ زیادہ آرام کے لیے سب سے لمبا روٹ منتخب کر سکتے ہیں۔

’کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ خود کشی کر لوں۔‘ ان کو ہر وقت اس بات کا ڈر لگا رہتا کہ کہیں انہیں پکڑ کر زبردستی انڈیا نہ بھیج دیا جائے۔

احمد ایک مسلمان ہیں جن کی پرورش انڈیا کے شہر گجرات کے ایک فارم میں ہوئی تھی۔ 2002 کے ہندو مسلم فسادات میں وہ اپنی جان بچانے کے لیے لندن آ گئے۔ تشدد کے واقعات میں ان چچا کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے سخت صدمے اور اس ڈر سے کہ اگلا نشانہ وہ ہوں گے ان کے والدین نے انھیں انڈیا سے باہر کسی اور ملک میں نوکری ڈھونڈنے کے لیے مجبور کیا۔

’انھوں نے کہا کہ تم چلے جاؤ، ہماری فکر نہ کروں۔ میرے لیے وہ بہت مشکل دن تھا کیونکہ میں اپنے والدین کو اکیلا چھوڑ کے آ رہا تھا۔‘

وہ سیاحتی ویزا پر لندن آئے اور ہیتھرؤ اترتے ہی سیاسی پناہ کی درخواست دے دی جو ناکام ہو گئی۔ کیونکہ انڈیا کو عموماً ایک محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے اور یہ اتنا بڑا ہے کہ کسی اور جگہ جا کے بسا جا سکتا ہے۔

احمد کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی اور اسے کہا گیا کہ وہ واپس انڈیا چلا جائے۔ لیکن انھوں نے چپ چاپ سسٹم سے باہر نکلنے کو ترجیح کیونکہ وہ واپسی کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتے تھے۔

کیونکہ ان کو کام کی اجازت نہیں تھی اس لیے جلد ہی ان کے پاس پیسے ختم ہو گئے اور وہ ادھر ادھر سڑکوں اور گلیوں میں سونے لگے۔ کبھی دروازوں کے سامنے اور کبھی کچرے کے ڈبوں کے پیچھے اور کبھی کبھار غریبوں کے لیے بنائے گئی پناہ گاہوں میں۔ ایک دن ان کو کسی نے بس کا مشورہ دیا اور اب گذشتہ ساڑھے تین سال سے وہ رات کی بسوں میں ہی سو رہے ہیں۔

اس دوران انھوں نے ایسے طریقے بھی سیکھ لیے ہیں جن سے ان کا سراغ نہ ملے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ احمد نے اچھی نیند سونے کے دوسرے طریقے بھی سیکھے ہیں۔

Image caption احمد جیسے کئی اور لندن کے ہجوم میں سمو کر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں

وہ بس کی لائن میں سب سے پہلے کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کی طرح کے کئی اور بھی ہیں جن کی کوشش ہوتی ہے کہ بس میں سب سے پچھلی نشستوں میں انجن کے اوپر جگہ ملے جو کہ سب سے زیادہ گرم ہوتی ہے۔

احمد ان ہزاروں افراد میں سے ایک ہیں جن کی یا تو پناہ کر درخواستیں نامنظور ہو چکی ہے یا پھر وہ اپنی اپیلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور وہ لندن میں اس امید پر ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہتے ہیں کہ شاید ان کی تقدیر بدل جائے۔

ان کی تعداد کے متعلق درست اندازہ تو نہیں کیونکہ ریڈار سے ہٹ جانے والے لوگوں کے متعلق پتہ چلانا بہت مشکل ہے۔ گذشتہ برس ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہوم آفس کو اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہے کہ جن 175,000 افراد کو کہا گیا کہ وہ ملک چھوڑ جائیں کیا وہ اب تک یہیں ہے یا ملک چھوڑ گئے ہیں۔

احمد کہتے ہیں کہ انھیں اکثر ایک خواب آتا ہے ’جیسے کوئی ان کے پیچھے ہے، وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں، چاقو گھونپنا چاہتے ہیں۔‘

لیکن اس سے بھی زیادہ ڈر انھیں پکڑے جانے کا ہے۔ سو انھوں نے ایک سادہ مگر سود مند طریقہ اپنایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ کسی پنگے میں ہی نہ پڑو۔ نہ کوئی مسئلہ پیدا کرو اور نہ ہی اس جگہ نظر آؤ جہاں مسئلہ ہے۔

لیکن لندن میں زندہ رہنے کی جستجو میں وہ بالکل اکیلے بھی نہیں ہیں۔ کئی تنظیمیں تارکینِ وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ وہ کبھی انھیں کچھ پیسے دے دیتی ہیں، کبھی قانونی مشورہ، کبھی گرم کھانا یا پھر ان کے نہانے کا بندوبست کر دیتی ہیں۔

احمد ہفتے میں تین دن مشرقی لندن کے سینٹر میں جاتے ہیں جہاں وہ نہاتے ہیں اور اپنے کپڑے دھوتے ہیں۔ وہ وہاں دو پلاسٹک کے بیگ بھی چھوڑ کے آتے ہیں جو کہ لندن میں ان کا سارا سرمایہ ہے۔ اسی طرح کے ایک اور خیراتی ادارے میں احمد کھانا پکاتے ہیں جس سے انھیں بسوں میں سفر کرنے کے لیے کرائے کے پیسے مل جاتے ہیں۔ کھانے کے بعد احمد دوسرے تارکینِ وطن کے ساتھ ٹیبل ٹینس یا سکریبل کھیلتے ہیں۔

’مجھے کھانا پکانا بہت پسند ہے۔ میں خوش ہوں کہ لوگ کھانا کھا کر مجھے دعا دیتے ہیں۔ یہ میرے لیے کاغذات حاصل کرنے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان لوگوں کی دعاؤں سے میرے سب کام ہو جائیں گے۔‘

لیکن خوش رہنے کے یہ لمحات بہت جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ سینٹر بند ہو رہا ہے اور احمد کو پھر بس پکڑنی ہے۔

’کل رات میری ٹانگوں میں بہت درد ہو رہا تھا، میرے پورے جسم میں درد تھا اور اب موسم بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ میں نے بسوں میں دو سردیاں گزاری ہیں، یہ بہت مشکل کام ہے۔ سردیوں کے موسم میں بحفاظت رہنا بڑا مشکل ہے۔‘

ہم نے ہیتھرو ایئرپورٹ کے لیے نائٹ بس لی۔ یہ بس 80 منٹ میں اپنی منزل پر پہنچتی ہے جو کہ نیٹ ورک پر سب سے لمبے روٹوں میں سے ایک ہے۔

لیکن ایئرپورٹ پہنچتے ہی میں نے یہ سوال کیا کہ آخر انڈیا واپس جانے میں کیا حرج ہے۔ برطانیہ میں ان کے پاس کوئی نوکری نہیں، رہنے کی کوئی جگہ نہیں اور کوئی سکیورٹی نہیں۔ اس لیے یہ سوچنا بہت مشکل ہے کہ اس سے برا کیا ہو گا۔

احمد کا جواب تھا۔ ’میں نے واپس نہیں جا سکتا۔ اپنے ملک میں میرے لیے زیادہ خطرہ ہے، زیادہ تکلیف ہے۔ اس لیے میں واپس انڈیا جانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

’اگر میری حالت اور بری ہو گئی تو میرے پاس اپنے آپ کو مارنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہو گا۔ میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ میں کبھی پکڑا نہ جاؤں اور مجھے انڈیا واپس نہ بھیجا جائے۔‘

لیکن وہ کب تک ایسا کرتے رہیں گے؟

’کچھ اور سال۔‘ احمد کو امید ہے کہ اگر انھوں نے 12 سال برطانیہ میں گزار لیے تو انھیں یہاں رہنے کی سرکاری طور پر اجازت مل جائے گی۔ لیکن یہاں اس طرح کا کوئی قانون اب نہیں ہے۔ سنہ 2012 تک ایک ایسا قانون ضرور تھا اور بھی 14 برسوں کے لیے تھا۔ اب اس عرصے کو 20 سال تک کے لیے کر دیا گیا ہے۔

جب تک احمد انڈیا واپس جانے کا فیصلہ نہیں کر لیتے یا پکڑے نہیں جاتے اس وقت تک تو ان کو بسوں میں ہی سونا پڑے گا۔

اسی بارے میں