24 گھنٹے فیول ٹینک میں کیسے گزرے

Image caption میں انس اور بادی کے ہمراہ دو ماہ تک ایتھینز میں پھنسا رہا۔ وہاں کوئی کام ، کوئی مدد حتیٰ کہ بقا کا کوئی راستہ نہیں تھا

شام کی جنگ میں ہجرت کرنے والے تین افراد ترکی میں ملے اور وہاں سے یونان میں داخل ہوئے لیکن وہ تینوں مزید آگے جانا چاہتے تھے۔

سید نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا ان کے پاس پیسے ختم ہو رہے تھے اور ان کے گھر والے جو ترکی میں تھے اس انتظار میں تھے کہ وہ ان کے رہنے کے لیے نیا مکان تلاش کریں۔ ان تینوں نے اٹلی میں داخل ہونے کی ایک آخری کوشش کرنے کا سوچا۔

’ ہم جانتے تھے کہ فیول ٹینک کے ذریعے جانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ کچھ شامی پہلے اس طرح کی کوشش کر چکے تھے اور ان سب کا کہنا تھا ’ایسا مت کرنا‘ لیکن ہم ہر حال میں یونان سے نکلنا چاہتے تھے۔‘

میں انس اور بادی کے ہمراہ دو ماہ تک ایتھینز میں پھنسا رہا۔ وہاں کوئی کام ، کوئی مدد حتیٰ کہ بقا کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ پولیس ہر روز ہمیں تنگ کرتی تھی صرف یہ پوچھ کر ’ تمھارے کاغذات کہاں ہیں۔‘

وہاں مختلف کیفے میں بیٹھے اسمگلر جن میں خاص طور پر کرد اورعرب افراد ہوتے تھے کھلے عام لوگوں کو بذریعہ جہاز، کشتی اور ٹرک کے فیول ٹینک میں چھپا کر دوسرے مغربی یورپی ممالک میں بھیجنے کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے۔

ان سب میں فیول ٹینک سب سے برا طریقہ تھا لیکن وہاں پہنچنے کا واحد راستہ سمجھا جاتا تھا۔

اسمگلروں نے ہم سے کہا ’ شاید وہاں پہنچنے تک تم زندہ نہ رہو لیکن وہاں پہنچ ضرور جاؤ گے۔‘

مصر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو اومونیا سکوائر کے قریب نیٹ کیفے چلاتا تھا اس نے ہمیں ٹرک کے فیول ٹینک کے بارے میں بتایا۔

اس کیفے میں بہت سے عرب بچے آتے ہوں گے جو اپنے والدین کے ساتھ سکائپ پر بات کرتے ہوں گے ۔ شاید اس شخص نے ان میں سے کسی کو فرانس اور اٹلی جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہوگا۔

اس نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک یونانی ڈرائیور کو جانتا ہے جو اٹلی کے شہر میلان جا رہا ہے اور ایک شخص کو لے جانے کا پانچ ہزار یوروز لے گا اور وہ ہم چاروں کو لےکر جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ٹرک میں دو فیول ٹینک ہیں۔

بادی انس اور ایک عراقی شخص کے ساتھ جسے ہم نہیں جانتے تھے کے ہم ایتھنز سے ٹیکسی میں بیٹھے۔ ڈرائیور ہمیں ایک گودام میں لے گیا جو تھیسالونیکی سے باہر صنعتی علاقے میں تھا اور سمندر سے زیادہ دور بھی نہیں تھا۔

ٹرک گودام میں چھپایا ہوا تھا اور ڈرائیور نے گودام کا دروازہ جلدی سے بند کر دیا تاکہ کسی کو علم نہ ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔

اس نے ہم سب سے بیت الخلا جانے کو کہا باقی سب تو چلے گئے لیکن میں نہیں گیا کیونکہ میں بہت پریشان تھا۔

ہمیں ٹینک میں کہنیوں کے بل چل کر اور خود کو سکیڑ کر داخل ہونا تھا جیسے ہی میں نے یہ دیکھا تو میں نے سوچ لیا ’ہم اس کے اندر مر جائیں گے۔‘

ہم یہ دیکھنے کے بعد ٹرک سے نیچے اترے اور دعا کرنے لگے۔ ہم چاروں نے ایک ساتھ اپنے بچوں کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد ہم جیسے تیسے فیول ٹینک میں گھس ہی گئے اور ڈرائیور نے انجن کو سٹارٹ کیا۔

جیسے ہی ٹرک چلنا شروع ہوا ہم سمجھ گئے کہ ہم ایک گھنٹہ بھی زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ فیول ٹینک بہت گرم ہو رہا تھا اور ڈیزل کے دھویں سے بھر رہا تھا۔

انس اچانک چیخنے لگا اور اس کی آواز سن کر ڈرائیور نے ٹرک کو روک دیا ہم باہر آئے اور انس نے کہا ’ میرے بچے ہیں میں مرنا نہیں چاہتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ’ فیول ٹینک سب سے برا طریقہ تھا لیکن وہاں پہنچنے کا واحد راستہ سمجھا جاتا تھا‘

ہم چاروں کا فیول ٹینک کے ذریعے جانا بہت مشکل تھا لہذا ہم سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عراقی شخص کو واپس ایتھنز جانا ہوگا کیونکہ ہم تینوں مہینوں سے ایک ساتھ ہیں ایک دوسرے کو جانتےہیں اور بھروسہ کرتے ہیں۔

ڈرائیور کو پانچ ہزار یوروز کا نقصان ہو رہا تھا لیکن وہ اپنی ٹرک کے فیول ٹینک کو لاشوں سے بھرا دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا تو اس نے ہم تینوں سے پانچ سو یورو اضافی لیے اور ہم پھر سے ٹینک میں گھس گئے۔

ایک گھنٹے کے اندر ہی مجھے شدید درد ہونے لگا کیونکہ مجھے پیشاب کرنا تھا۔ ہم بلکل آٹے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ یہ بلکل ایسے تھا جیسے اوون اور بہت اندھیرا ساتھ میں پگھلتی پلاسٹک اور ڈیزل سے بھرا دھواں۔ مجھے 100 فیصد یقین ہوگیا تھا کہ ہم مرنے والے ہیں۔

ہمارے پاس ایک چھوٹی پلاسٹک کی بوتل تھی۔ بادی اور انس نے کسی طرح اس بوتل میں پیشاب کرنے کی کوشش کی لیکن آدھا بوتل میں گیا اور آدھا ادھر اُدھر گر گیا۔ بادی نے بوتل کو ٹینک سے باہر خالی کرنے کی کوشش کی لیکن ٹرک بہت تیز جا رہا تھا تو سب چھینٹیں واپس اندر آگئی۔

میں شدید اذیت میں تھا لیکن میں اپنے دوستوں کے ہوتے ہوئے اس بوتل میں پیشاب نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے شدید درد ہو رہا تھا لیکن میں اپنے ساتھیوں کی خاطر خاموش رہنے کی کوشش کر رہا تھا اور اندر ہی اندر چیخ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد ڈرائیور کشتی کے ذریعے ٹرک کو پار کرنے لگا۔ ٹرک کا انجن بند ہوتے ہی ہم ڈرنے لگے کہ کہیں کوئی ہماری آواز سن نہ لے۔

اس خوف سے ہم نے ایک لفظ نہ بولا اور کشتی کے انجن کی آواز سنتے رہے لیکن ہمارے لیے سانس لینا شدید مشکل ہو رہا تھا۔

ہم میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ہم یہ کر پائیں گے۔ میرے پاس موبائل فون تھا جسے میں بار بار دیکھ رہا تھا ۔ میں اپنی بیوی اور بیٹیوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا میری جڑواں بیٹیاں ہیں دیما اور ریما اور وہ چار برس کی ہیں۔

میں نے یہ تمام سفر صرف ان کے لیے ہی کیا ہے۔ انھیں جنگ سے دور رکھنے کے لیے میں نے شام کو چھوڑا۔ میں سارے راستے یہی سوچتا رہا ’ اگر میں نہ کر پایا تو ان کا کیا ہوگا۔‘

ہماری ایک اور بیٹی پیدا ہونے والی ہے میں نے ترکی میں الٹرا ساؤند کے ذریعے دیکھا تھا اس لیے میں جانتا ہوں کے وہ لڑکی ہے۔

میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا خدا مجھے اتنی زندگی دے گا کہ میں اس بچی کو دیکھ سکوں کہ اتنے میں موبائل کی بیٹری ختم ہوگئی۔

آخر کار ٹرک کا انجن دوبارہ سٹارٹ ہوا اور ہم نے آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کر دیا۔ جب ہم رکے تو باہر چند لوگوں کو اطالوی زبان بولتے سنا ہم سمجھ گئے کہ ہم اٹلی میں ہیں۔

Image caption ’ہم نے ہاتھوں کی مدد سے خد کو گھسیٹتے ہوئے ٹرک کے نیچے سے نکالا‘

ہم نے سکون کا سانس لیا کیونکہ اب جو بھی ہو ہمیں واپس یونان نہیں بھیجا جائے گا۔

ڈرائیور نے ہمیں میلان لے کر جانا تھا لیکن مزید کچھ گھنٹے گزرنے کے بعد ہم نے چیخنا شروع کردیا لیکن ڈرائیور نے شاید نہیں سنا اور یا پھر وہ رکنا نہیں چاہتا تھا۔

بادی کے موبائل میں ابھی کچھ بیٹری باقی تھی لہذا اس نے ٹینک کے اندر سے ہی ایتھنز میں ان سمگلروں کو کال کی اور کھا ’ ڈروئیور کو کال کر کے کہیں کہ ہمیں اس ٹینک سے نکالے ورنا ہم اندر مر جائیں گے۔‘

ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ڈرائیور نے ٹرک کو روک دیا۔

ہم ٹینک میں سے نکل کر زمین پر گر گئے۔ ہم اپنی ٹانگوں کو ہلا نہیں پا رہے تھے نہ ہی محسوس کر پا رہے تھے۔ ہم نے ہاتھوں کی مدد سے خود کو گھسیٹتے ہوئے ٹرک کے نیچے سے نکالا۔

آدھا دن گزر چکا تھا اور ہم اٹلی میں کہیں تھے۔ اس کے بعد ڈرائیور نے ہم سے کہا کہ اب سے وہ ہمیں نہیں جانتا۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور ہم کہنیوں کے بل چل کر سڑک کے نیچے کنکریٹ کی سرنگ میں گھس گئے۔

کچھ دیر کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا تو ہم ہنسنے لگے کیونکہ ہم پگھلی ہوئی کالی ربڑ میں ڈھکے ہوئے تھے اور ہم سے بدبو آرہی تھی۔

ہم اپنے ساتھ ایک چھوٹا بیگ لائے تھے جس میں صاف کپڑے تھے لہذا ہم نے صاف کپڑے پہن کر پرانے وہیں سرنگ میں چھوڑ دیے۔

ہمیں تینوں کو بلکل معلوم نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں تو بادی نے جی پی ایس کی مدد سے ایک گاؤں تلاش کیا اور ہم نے اس کی طرف چلنا شروع کر دیا۔

جب بھی کوئی گاڑی ہمارے قریب سے گزرتی ہم ڈر جاتے کے کہیں گاؤں والے ہمیں پولیس کے حوالے نہ کر دیں لہذا ہم پہاڑوں کی طرف دیکھنے لگے اور ایسا ظاہر کرنے لگے جیسے ہم کوئی سیاح ہوں۔

جب ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو ہمیں مدد کی ضرورت تھی ہم نے 24 گھنٹوں سے نہ تو کچھ کھایا تھا نہ ہی کچھ پیا تھا۔

چونکہ تینوں میں سے سب سے زیادہ سفید اور تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑی انگریزی بھی جانتا تھا اور یہاں آنے سے قبل میں نے کچھ اطالوی الفاظ بھی سیکھ لیے تھے تو میرے دوستوں نے مجھے بات کرنے کے لیے کہا۔

اٹلی کے لوگ بہت مہربان تھے وہ ہمیں ہاتھ سے پکڑ کر ایک ریستوراں لے گئے لیکن وہ بند تھا تو ہم ایک کیفے چلے گئے۔

وہاں کچھ کھانے کو نہیں تھا۔ ویٹر ہمارے لیے پانی اور کافی لے کر آیا۔

ہم نے کافی پی وہ بہت کڑوی تھی۔ یہ دوسری بار تھی جب ہم یہ کہہ کر ہنسے ’ ہم فیول ٹینک میں تو بچ گئے لیکن اس کافی کو پینے کے بعد مر جائیں گے۔‘

اسی بارے میں