امریکہ میں دہشت گردی کے الزام میں دو خواتین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا ایک اہلکار خفیہ طور پر ان خواتین سے رابطے میں تھا اور اسی نے ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا

امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اس نے دو خواتین کو گرفتار کر لیا ہے جن پر امریکہ میں مختلف مقامات پر بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ان دونوں خواتین نے جو امریکی شہری ہیں، خود کو ’دولتِ اسلامیہ کی شہری‘ قرار دیا۔

کچھ عرصہ پہلے تک نویل ویلنٹزاس اور آسیہ صدیقی دونوں نیویارک شہر کے کوئینز سیکٹر میں رہتی تھیں۔ آسیہ صدیقی کے پاس کئی ’گیس ٹینک‘ تھے اور عدالتی دستاویزات کے مطابق ان کے قبضے سے ان آلات کو بموں میں تبدیل کی ہدایات بھی ملی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق آسیہ صدیقی کا تنظیم القاعدہ فی جزیرہ العرب کے ارکان سے تواتر کے ساتھ رابطہ تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق آسیہ صدیقی کی مبینہ ساتھی ویلینٹزاس اسامہ بن لادن کو ہیرو کہہ کر پکارتی تھیں۔

نیویارک کے فیلڈ آفس میں ایف بی آئی کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیئگو راڈریگس نے بتایا کہ ’ملزم خواتین نے دھماکہ خیز آلات کے ذریعےدہشت گردی سے تباہی پھیلانے کی سازش کی۔ انھوں نے پریشر ککر بم بنانے کی ترکیبوں پر بھی تحقیق کی جو بوسٹن میں میراتھن کے دوران استعمال کیے گئے تھے۔‘

محکمۂ انصاف کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین نے گذشہ سال اگست سے دھماکہ خیز چیزیں بنانے کی منصوبہ بندی کی اور (اس مقصد کے لیے) کیمسٹری اور بجلی جیسے موضوعات کی تعلیم حاصل کی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ان خواتین کا کوئی خاص ہدف نہیں تھا لیکن ایک موقعے پر انھوں نے نیویارک کے مین ہیٹن میں واقع ہیرالڈ سکوائر کے بارے میں سوچا تھا۔ محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ یہ دونوں خواتین ’تاریخ رقم کرنا‘ چاہتی تھیں اور انھوں نے حالیہ دہائیوں میں کئی بڑے حملوں میں استعمال کردہ بم بنانے کے طریقوں پر تحقیق کی۔

ویلینٹزاس نے بظاہر امریکی فضائیہ کے ایک افسر پر تنقید کی تھی جسے حال ہی میں پرتشدد جہاد میں شرکت کے لیے شام جانے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے سوال کیا کہ جب امریکہ میں ایسے ہدف موجود ہیں جن سے ’اللہ کو خوش‘ کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں تو پھر لوگ باہر کے ممالک کا سفر کیوں کرتے ہیں؟

عدالتی کاغذات کے مطابق یہ دونوں خواتین کئی سال سے ایک انڈر کور ایجنٹ سے رابطے میں تھیں۔

آسیہ صدیقی نے مبینہ طور پر ایجنٹ کو بتایا کہ ویلینٹزاس کو اس طرح کے پریشر ککروں میں خاص دلچسی تھی جو 2013 میں بوسٹن کے بم دھماکوں میں استعمال کیے گئے تھے۔

دونوں خواتین اگلے چند گھنٹوں میں نیو یارک کی ایک عدالت میں پیش ہوں گی۔ اگر قصوروار پائی گئیں تو انھیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پچھلے ماہ سرکاری اہلکاروں نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے 47 سالہ تیرود نیتھن ویبسٹر کو جو امریکی شہری ہیں اور کافی عرصہ امریکی فضائیہ میں رہے ہیں، مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ کی مدد کی کوشش میں گرفتار کیا تھا۔

گرفتاری سے قبل وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں رہ کر کام کر رہے تھے اور انھوں نے شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ میں شرکت کے لیے شام جانے کی کوشش بھی کی تھی۔ تاہم وہ ان تمام الزامات سے انکاری ہیں۔

اسی بارے میں