یمن: غیر ملکی فوجی عدن پہنچنا شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یمن سے موصول ہونے والی غیر مصدقہ اطلاعات کےمطابق غیر ملکی فوجیں ساحلی شہر عدن پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان فوجیوں کی قومیت کیا ہے۔

جب سے حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا میں قبضہ جمانے کے بعد سے عدن شہر کی جانب پیش قدمی شروع کی ہے، عدن میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے سے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے عرب ملکوں کے اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

گذشتہ ہفتےحوثی باغی عدن شہر پر قبضہ کرنے کے نزدیک تھے جب صدر عبدربہ منصور ہادی ملک سے فرار ہو گئے۔

جنوری میں دارالحکومت صنعا پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سے صدر ہادی نےعدن میں پناہ لے رکھی تھی۔ حوثی باغیوں کا الزام ہے کہ صدر منصور ہادی بدعنوان ہیں اور وہ ان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

خلیجی عرب ممالک الزام لگاتے ہیں کہ ایران حوثی باغیوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کر رہا ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

حوثی قبائل کو سابق صدر عبد الصالح کی حامی فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔

جمعرات کے روز مقامی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ القاعدہ کے جنگجوؤں نےساحلی شہر مکلا میں جیل پر حملہ کر کے 150 قیدیوں کو رہا کرا لیا ہے۔ حکام نےکہا ہے کہ جیل سے جن قیدیوں کو رہا کرایا گیا ہے ان میں علاقائی القاعدہ کےسینئر رہنما بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں