’معاون پائلٹ نے جان بوچھ کر جہاز کو نیچے گرایا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Andreas Lubitz
Image caption لوبٹز نے پائلٹ بننے سے کئی سال قبل خودکشی کرنے کے رجحانات پائے جانے پر نفسیاتی علاج یا سائیکو تھراپی کروائی تھی

فرانس میں تباہ ہونے والے مسافر طیارے جرمن ونگز کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کے دوسرے بلیک باکس سے حاصل ہونی والی معلومات سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ساتھی پائلٹ نے جان بوجھ کر جہاز کو گرایا۔

فرانس بی ای اے کے تفتیش کاروں کے مطابق آندریاز لوبٹز نے بار بار جہاز کا رخ نیچے کی طرف کیا۔

جہاز کا دوسرا فلائٹ ریکارڈر جمعرات کو ملا تھا۔

اس سے پہلے تفتیش میں سامنے آیا تھا کہ جرمن مسافر طیارے کے جہاز کے معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز میں بہت پہلے سے خودکشی کرنے کے رجحانات موجود تھے اور وہ اس کا علاج بھی کروا چکے تھے۔ اس حادثے کے نتیجے میں جہاز پر موجود 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بی ای اے کی جانب سے جمعے کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’ڈیٹا ریکارڈر کی ریڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ کاک پٹ میں موجود پائلٹ نے جہاز کو نیچے کی طرف محض 100 فٹ کی بلندی پر لے جانے کے لیے آٹو پائلٹ کا استعمال کیا۔‘

’پائلٹ نے جہاز کو تیزی سے نیچے کی طرف لانے کے لیے اس کے بعد کئی مرتبہ آٹو پائلٹ کی سیٹنگز کو تبدیل کیا۔‘

اس سے پہلے کاٹ پٹ میں آوازوں کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ معاون پائلٹ نے جہاز کے پائلٹ کو کاٹ پٹ کے باہر لاک کر دیا تھا۔

ڈزلڈورف میں استغاثہ کے ترجمان رالف ہیرن بروک نے بتایا ہے کہ لوبٹز نے پائلٹ بننے سے کئی سال قبل خودکشی کرنے کے رجحانات پائے جانے پر نفسیاتی علاج یا سائیکو تھراپی کروائی تھی۔

اس سے قبل جرمنی میں استغاثہ کا کہناتھا کہ فرانس میں جرمن مسافر طیارے کو ممکنہ طور پر جان بوجھ کر تباہ کرنے والے معاون کپتان نے اپنی بیماری کی تفصیلات کو ایئرلائن سے چھپایا تھا۔ استغاثہ کے بقول آندریاز لوبٹز کے گھر سے ان کی بیماری سے متعلق بعض پھٹے ہوئے پرچے ملے تھے جن میں سے کچھ پرانے اور بعض جہاز تباہ ہونے والے دن کے بارے میں تھے۔

آندریاز لوبٹز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ذہنی بیماری یا ڈپریشن کا شکار تھے، حالانکہ استغاثہ کی جانب سے ان کی بیماری کا نام واضح نہیں کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس حادثے کے نتیجے میں جہاز پر موجود 150 افراد ہلاک ہوئے تھے

واضح رہے وائس ریکارڈنگ سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق آندریاز لوبٹز نے جان بوجھ کر کاک پٹ کا دروازہ بند کر کے جہاز کو فرانس کے پہاڑوں میں گرا کر تباہ کر دیا تھا۔

اس سے پہلے حادثے کی تفتیش کرنے والے سرکاری ماہر برائس روبن نے بھی بلیک باکس سے ملنے والی آوازوں سے مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے کے وقت معاون کپتان کاک پِٹ میں تنہا تھا اور اس نے اس وقت دانستہ طور پر طیارے کی بلندی کم کرنا شروع کر دی جب طیارے کا کپتان کاک پِٹ سے باہر تھا۔

اس وقت طیارے کا مکمل کنٹرول نائب کپتان کے ہاتھ میں تھا۔ جب وہ کاک پِٹ میں تنہا تھے تو انھوں نے فلائیٹ مانیٹرنگ سسٹم پر جہاز کی بلندی کم کرنے والا بٹن دبا دیا۔

جرمنی کی قومی فضائی کمپنی لُفتھانزا کی ذیلی کمپنی ’جرمن ونگز‘ کا مسافر طیارہ منگل کے روز بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈزلڈورف جاتے ہوئے فرانس کے پہاڑی سلسلے ’فرنچ ایلپس‘ پرگر کر تباہ ہو گیا تھا

اسی بارے میں