لوٹ مار کے واقعات، تکریت سے شیعہ ملیشیا کو نکال لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تکریت میں عوام کا کہنا ہے کہ شہر کو آزاد کرانے والے اس وقت سے گاڑیاں چوری اور سرکاری عمارتیں چھان رہے ہیں

عراق کے شہر تکریت کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے میں مدد کرنے والی شیعہ ملیشیا کو پرتشدد اور لوٹ مار کے واقعات کے باعث شہر سے باہر بلا لیا گیا ہے۔

تکریت شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے والی حکومتی فوجوں میں شیعہ ملیشیا گروہ کی کثیر تعداد شامل تھی۔

تاہم تکریت میں عوام کا کہنا ہے کہ شہر کو آزاد کرانے والے اس وقت سے گاڑیاں چوری اور سرکاری عمارتیں چھان رہے ہیں۔

تکریت پر گذشتہ برس جون میں دولت اسلامیہ نے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا اور اسے ایک اہم کامیابی قراد دیا تھا۔

جس کے بعد شہر میں لڑائی جاری رہی اور اب اس کا بیشتر حصہ خالی ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے لوٹ مار کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے تاہم اطلاعات کے بعد حکومت نواز فوجوں کی کارروائیاں چوری اور لوٹ مار سے بھی بڑھ رہی ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے نامہ نگار نے دولت اسلامیہ کے ایک جنگجو کو ہجوم کے درمیان گھرے دیکھا جسے قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے لوٹ مار کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے

صوبہ صلاح الدین کی کونسل کے سربراہ احمد الکرائم نے خیبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہجوم نے ’سینکڑوں گھروں‘ کو نذر آتش کر دیا ہے۔

حکومتی اہلکاروں نے ان کارروائیوں میں فوج کے ملوث ہونے کے بارے میں رپورٹس کو رد کرنے کی کوشش میں پرتشدد واقعات اور لوٹ مار کے الزامات مقامی سنی قبائلی جنگجوؤں پر عائد کیے۔

ایک عراقی فوجی احمد سلیم نورل الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ شکست کے بعد گلیوں میں آئی ای ڈی یا دیسی ساختہ بم نصب کر کے گھروں اور دکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دیے ہیں۔

عراق کی وفاقی پولیس کمانڈ کے کیپٹن محمود السعدی کہتے ہیں کہ سپاہی ان بموں کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لوگ اپنے گھروں کو واپس آ سکیں۔

عراق فوجی حکام کے مطابق تکریت اب دولت اسلامیہ سے مکمل طور پر آزاد ہو چکا ہے۔

کیپٹن السعدی کہتے ہیں ’تکریت کے اندر مزاحمت کاروں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ ‘

عراقی فوج اب اپنی توجہ شمال کی جانب 225 کلومیٹر فاصلے پر دریائے دجلہ کے کنارے واقع شہر موصل موکوز کرے گی۔

اسی بارے میں