نقاب پر پابندی کی قانونی جدوجہد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جرمنی کی سپریم کورٹ نے سنہ 2004 میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے لیے نقاب کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی تھی کیونکہ اُن کے خیال میں پابندی سے مذہبی آزادی مجروع ہو رہی تھی۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد مختلف یورپی ممالک میں، جہاں نقاب کے حوالے مختلف قوانین ہیں، وہاں مسلمان خواتین کے نقاب پہنے کے معاملے بہت تبصرے ہوئے۔

صرف مسلمان ہی نہیں ہیں جنھیں مذہبی عقائد کے تحت لباس زین تن کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مثال کے طور پر سکھوں کو پگڑی پہن کر سکول یا دفتر میں کام کرنے کے اجازت لینے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا اور مسیحوں کو سکول میں مخصوص انگوٹھی پہنے کے لیے بھی اجازت لینا پڑی۔

گو کہ ایسے تمام واقعات کا ذکر مسلمانوں کے نقاب کے مقابلے میں کم ہی ہوا ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض یورپی ممالک اپنے ملکوں میں بڑھتے ہوئے نقاب کو قومی شناخت پر حملہ قرار دیتے ہیں کیونکہ صنفی مساوات، ریاست اور مذہب کی علیحدہ علیحدہ حیثیت کو مغرب اپنی خصوصیت قرار دیتی ہے۔

ایسے افراد جو نقاب پہنے کا اختیار دینے کے حق میں ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ قانون اور معاشرے کو مذہبی آّزادی کی حفاظت کرنی چاہیے۔

کن ممالک میں نقاب پہنے کی پابندی ہے؟

یورپی عوام میں نقاب کرنے یا نہ کرنے کے حوالے بہت حد تک بدلتی ہوئی سوچ پائی جاتی ہے۔

ترکی میں سرکاری ملازمین اور کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے کے اساتذہ اور طالبات پر نقاب پہنے پر پابندی ہے۔

سنہ 2014 میں فرانس نے سرکاری اساتذہ اور طالبات کے لیے سکولوں میں نقاب پر پابندی عائد ہے اور سرکاری ملازمین کے لیے بھی مذہبی علامت کے طور پر کچھ بھی پہنا ممنوع ہے۔

سنہ 2010 میں تو فرانس نے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

بلجیئم نے سنہ 2011 میں عوامی مقامات پر نقاب پہنے کو ممنوع قرار دیا۔

سکولوں اور دفاتر میں علاقائی سطح پر نقاب پر عائد پابندی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

کیا قانونی چیلنجز بھی ہیں؟

نقاب کے حوالے سے سب سے مشہور چیلنج سوئٹزرلینڈ اور ترکی میں پیش آیا، جب انسانی حقوق کے کارکن اس معاملے کو یورپین عدالت تک لے کرگئے۔

عدالت نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ٹیچرز کے لیے نقاب کرنا غیر قانونی ہے اور ترکی میں بھی عدالت نے تسلیم کیا کہ حکومت نے یونیورسٹیوں کی طالبات کے لیے چہرہ چھپانے کو ممنوع قرار دیا ہے۔

مذہبی لباس زیبِ تن کرنے پر پابندی کے معاملے پر عدالتوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے فرانس میں نقاب پر مکمل پابندی کو یورپی عدالت میں چیلنج کیا اور سنہ 2014 میں عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نقاب پر پابندی قانون کے مطابق ہے۔

برطانیہ میں قانون کے تحت نقاب کرنے پر پابندی تو نہیں ہے لیکن سکول اور دفاتر میں نقاب کرنا منع ہے۔

عدالت میں اس پابندی کو مذہبی بنیاد پر امتیازی رویے کو بیناد بنا کر چیلنج کیا گیا لیکن بعض ملازمتوں کی نوعیت ایسی تھی جس میں آپ چہرہ ڈھانپ نہیں سکتے یا سکول کا یونیفام میں مذہبی کپڑے پہنے کی محدود گنجائش ہے، تو ایسے میں مذہبی امتیاز کی دلیل بھی ناکام ہو گئی۔

پابندی کیوں اور کہاں ختم ہوئی ہے؟

جرمنی میں بعض ریاستوں نے ٹیچرز اور طالبات پر سرکاری سکولوں میں نقاب پر پابندی عائد کی اور آغاز میں اس طرح کی پابندی کی اجازت بھی تھی۔

سنہ 2015 میں جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت کے سخت فیصلے کے بعد نقاب پر پابندی ختم ہوگئی کیونکہ عدالت نے کہا تھا کہ جرمنی کے قوانین مذہبی آزادی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دوسرے یورپی ممالک جیسے نیدرلینڈ اور سوئیٹزلینڈ میں چہرے ڈھانپنے پر پابندی کے معاملے پر غور ہوا لیکن اس معاملے پابندی کے لیے مطلوبہ سیاسی اکثریت حاصل کرنے کے لیے اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکا۔

کیا نقاب کے معاملے پر ریاست کا عمل دخل ہونا چاہیے؟

عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل نقاب پر پابندی کسی حد تک تو درست ہے لیکن مبصرین کے خیال میں کوئی بھی ایسی پابندی جس کا دائرہ بہت محدود ہو، وہ معاملات بگاڑ سکتی ہیں۔

مذہبی لباس پر بےجا یا ضرورت سے زیادہ قدغن معاشرے میں تناؤ اور کشیدگی بڑھاتی ہیں اور ان کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انفرادی اور شخصی آزادی کو محدود کرنے سے پہلے چھان پھٹک بہت ضروری ہے۔

اسی بارے میں