اطالوی بحریہ نے 1500 غیرقانونی تارکینِ وطن کو بچا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کے خواہشمند ڈیڑھ ہزار غیرقانونی تارکینِ وطن کی جان بچائی ہے۔

حکام کے مطابق انھیں سنیچر کو لیبیا سے اٹلی کی جانب آنے والی تین کشتیوں کی جانب سے مدد کی اپیل موصول ہوئی جس پر اطالوی بحریہ اور سمندری محافظوں کے جہاز بھیجے گئے جنھیں تارکینِ وطن کی مزید دو کشتیاں بھی ملیں۔

ان غیرقانونی تارکینِ وطن کو اتوار کو لمپیدوسا کے جزیرے اور سسلی کی بندرگاہوں آگسٹا اور پورٹو امپیڈوسلی منتقل کیا گیا ہے۔

سنیچر کو ایک علیحدہ واقعے میں یورپی سمندری حدود کی نگرانی کرنے والے آئس لینڈ کی بحریہ کے ایک بحری جہاز نے 318 پناہ گزینوں کو سسلی کی بندرگاہ پوزالو منتقل کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2014 میں بھی دو لاکھ سے زیادہ افراد نے بحیرۂ روم کے راستے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کے لیے سفر کیا تھا

اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس بھی دو لاکھ سے زیادہ افراد نے بحیرۂ روم کے راستے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کے لیے سفر کیا تھا اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ان میں سے اندازاً ساڑھے تین ہزار اس کوشش کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے مطابق 2014 میں ایسے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد دو لاکھ 76 ہزار تھی جن میں سے دو لاکھ 20 ہزار نے بحیرۂ روم کا رخ کیا تھا۔

خیال رہے کہ لیبیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے اور یہ تارکینِ وطن غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کے لیے چھوٹی کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں