’زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہیں

یمن میں جاری پیچیدہ جنگ میں کمی کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی ہے جبکہ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یمن میں جاری تصادم میں ہلاکتوں کی تعداد اب 550 ہو گئی ہے۔

بی بی سی نیوز نے اس بارے میں یمن کے دو سب سے زیادہ متاثرہ شہروں عدن اور صنعا میں دو رہائشیوں سے بات کی ہے۔

نسما الوزیبی، طالبعلم، عدن

زندگی روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ نہیں قربانی ہے۔

پانی، غذا، دوا مشکل سے دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض جگہوں پر امداد پہنچی ہے لیکن وہ کافی نہیں۔

حوثیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں میں آئے دن لوگ زخمی اور ہلاک ہو رہے ہیں اور اتحادی فضائیہ کی جانب سے روزانہ بمباری ہو رہی ہے۔

بعض ڈاکٹر اور نرسیں باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption زیادہ تر پیٹرول پمپ بند پڑے ہیں اور جو کھلے ہیں وہاں لمبی قطاریں ہیں

میں سول انجینیئر ہوں اور تربیت کے دور میں ہوں لیکن کالج تشدد کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔ اس لیے گذشتہ روز میں نے ایک مقامی ہسپتال میں رضاکار نرس کی تربیت لی۔

وہاں جانا خطرناک ہے لیکن میرا ضلع حوثی کنٹرول میں نہیں ہے اس لیے میں وہاں جا کر رضاکارانہ طور پر کام کروں گا۔

ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایئرپورٹ کے قریب رہتے تھے لیکن ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا کیونکہ وہاں رہنا خطرناک تھا۔ ہم نے اپنا گھر گنوا دیا ہے۔

حوثی گھروں پر حملے کر رہے ہیں اور ان کے پاس بھاری ہتھیار ہیں اور فضائی حملے بھی خاطر خواہ کام نہیں کر رہے ہیں۔

ہمارے پاس کھانے کے لیے ہے لیکن مزید حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ دکانیں خالی پڑی ہیں۔

لوگ اپنی جان و مال کے لیے خوفزدہ ہیں۔ یہ پاگل پن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آئی سی آر سی کی پروازیں بس علامتی ہیں۔ جوں ہی وہ جائیں گی پھر سے بمباری ہونے لگے گی

صنعا کے ہاشم الومیسی کی زبانی

یہاں کے حالات بہت خراب اور مایوس کن ہیں۔

آج قدرے سکون ہے۔ بمباری نہیں ہو رہی ہے اس لیے میں باہر نکلا تاکہ گھر والوں کے لیے غذا اور گیس حاصل کر سکوں، لیکن دکانیں خالی ہیں اور زیادہ تر پیٹرول پمپ بند ہیں اور جو کھلے ہیں وہاں لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

ہم ایک انسانی بحران میں ہیں۔ لوگوں کو خوراک چاہیے۔ بجلی برائے نام ہے۔ ہمارے پاس کچھ کھانے کا سامان ہے لیکن اب وہ ختم ہو رہا ہے۔

آئی سی آر سی کی پروازیں بس علامتی ہیں۔ جوں ہی وہ جائیں گی پھر سے بمباری ہونے لگے گی۔

اتحادیوں کو چاہیے کہ ہوائی اڈے اور بندرگاہیں کھول دیں اور کھانے کی اشیا آنے دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption حوثی گھروں پر حملہ کر رہے ہیں ان کے پاس بھاری ہتھیار ہیں

اسی بارے میں