امریکہ کی پاکستان کو اسلحے کی فروخت کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کو ممکنہ طور پر فروخت کیے جانے والے ہتھیاروں میں ہیل فائر میزائل اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں

امریکی دفترِ خارجہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے جس میں ہیل فائر میزائل اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے کہا ہے کہ کل 95 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی قیمت کا یہ ساز و سامان پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے ہے۔

ابھی اس سودے کو کانگریس کی منظوری ملنی باقی ہے۔

میری ہارف نے بتایا کہ اس سودے کی فروخت سے 30 روز قبل ہی کانگریس کو اس کی اطلاع دینی ہوتی ہے اور اس کے بعد پاکستانی فوج کو یہ ہتھیار مہیا کیے جا سکتے ہیں۔

امریکہ میں اب سیاسی ماحول گرم ہو رہا ہے اور چند روز پہلےہی رپبلكن پارٹی کی طرف سے صدارتي امیدواری کی دوڑ میں شامل رینڈ پال نے پاکستان کو امریکی فوجی امداد دینے پر سوال اٹھایا تھا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر اب بھی ان ’دہشت گردوں‘ سے خطرہ برقرار ہے جنھوں نے امریکہ یا افغانستان میں امریکی فوج پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے بھی جو ارکان بچے ہوئے ہیں وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہیں۔

میری ہارف کا کہنا تھا کہ ’پاکستانیوں کی مشکلات اب بھی برقرار ہیں اور ہم اس لیے ان کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔‘

دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار اور ہیلی کاپٹر پاکستانی زمین پر دہشت گردی کے خلاف ہی استعمال کیے جائیں گے اور اس کی نگرانی کے لیے امریکہ کے پاس بہت سے طریقے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ ہمارے ہتھیاروں کااستعمال کہاں ہو رہا ہے، ہم اس کی نگرانی کر سکتے ہیں۔‘

یمن میں سعودی عرب کی مدد کے لیے پاکستانی فوج کے بھیجےجانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

اسی بارے میں