’امریکہ حوثی باغیوں کی ایرانی حمایت سے بخوبی آگاہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیر خارجہ حال ہی میں ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شرکت تھے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک یمن میں حوثی باغیوں کے لیے ایران کی مبینہ حمایت سے بخوبی آگاہ ہے اور ایران نے اگر خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو امریکہ ’کھڑا دیکھتا نہیں رہے گا۔‘

امریکی ٹی وی چینل’پی بی ایس‘ کو ایک انٹرویو میں جان کیری نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے ان اتحادیوں کی حمایت جاری رکھے گا جو ایران سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ ایران حوثیوں کی مدد کر رہا ہے: ’واضح طور پر ایران سے کمک آ رہی ہے۔ ہر ہفتے متعدد ایسی پروازیں ہیں جو وہاں سے آ رہی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’واضح طور پر ہم لڑائی نہیں چاہتے ہیں لیکن ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو ممکنہ طور پر ایران کی مرضی سے پیدا ہونے والے نتائج سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔‘

امریکہ نے ایک دن پہلے ہی سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف برسرِ پیکار اتحاد کے لیے اسلحے کی فراہمی کا عمل تیز کرنے اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

واضع رہے کہ تہران پر سعودی عرب کی جانب سے حوثی باغیوں کو فوجی اور مالی مدد فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حوثی قبائل نے کہا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کو تبدیل کرنا ہے

اطلاعات کے مطابق ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز بدھ کو خلیج عدن کے لیے روانہ ہوئے ہیں تاہم ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز قزاقوں کے خلاف مہم کے سلسلے میں بھیجے جا رہے ہیں۔

ایرانی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے ریاستی میڈیا کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ’خطے میں بحری راستوں کا تحفظ ہے۔‘

ادھر عدن میں حوثی باغیوں اور صدر عبدالربہ منصور ہادی کی حامی ملیشیا کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں پر فضائی حملے جاری ہیں۔

اسی دوران بین الاقوامی امدادی ادارے آئی سی آر سی کے مطابق ایک بحری جہاز ادویات لے کر عدن پہنچ گیا ہے جبکہ دو طیارے امدادی سامان لے کر دارالحکومت پہنچیں گے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار صنعا میں کچھ دیر کےلیے رکے تھے اور ان کے مطابق ایئر پورٹ کے قریب سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption خبر ساں ادارے روئٹرز کو مقامی لوگوں نے بتایا کے باغیوں کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے مدد بھی حاصل تھی

بدھ کو خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وسطی عدن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں باغیوں نے پیش قدمی کی ہے اور گولہ باری کے باعث کئی گھروں کو آگ لگی ہوئی ہے۔

شہر کے شمال میں سعودی جنگی جہازوں نے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

صدر منصور ہادی کی حکومت کو بچانے کے لیےسعودی عرب کی حکومت حوثی باغیوں کے خلاف بھرپور فضائی کارروائی کر رہی ہے لیکن ابھی تک وہ باغیوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

بدھ کے روز درجنوں باغی اور اور ان کے اتحادی فوجی شہر کی بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں داخل ہوگئے تھے۔ خبر ساں ادارے روئٹرز کو مقامی لوگوں نے بتایا کے باغیوں کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے مدد بھی حاصل تھی۔

واضح رہے کہ دو ہفتے قبل صدر ہادی کو یمن چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی تھی۔

حوثی قبائل نے کہا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور وہ اس پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔

ان کی حمایت سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں