امن فوج کے’بھوکے‘فوجیوں کےراشن میں اضافہ

سویڈن کے فوجی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مالی میں سویڈن کے 250 امن فوجی تعینات ہیں

مالی کے شہر ٹمبکٹو میں مقیم اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل سویڈن کے فوجیوں کی اس شکایت کے بعد کہ وہ بھوکے رہتے ہیں ان کی خوراک کی مقدار بڑھا دی گئی ہے۔

لفٹیننٹ کرنل کارل میگنس سوینسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اب وہ اقوامِ متحدہ کے راشن سے یومیہ ملنے والی 1,800 کیلوریز کی جگہ 4,000-4,500 کیلوریز لیتے ہیں۔

سویڈن کے ایک فوجی نے سویڈن کے اخبار ڈیگنز نائی ہیٹر کو بتایا کہ مالی میں قیام کے دوران ان کا 80 کلو گرام وزن کم ہوا ہے۔

2013 میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف فرانس کی سربراہی میں ہونے والی کارروائی کے بعد شمالی مالی میں اقوامِ متحدہ کے مشن کو تعینات کیا گیا تھا۔

مالی کے دارالحکومت بماکو میں بی بی سی کی نامہ نگار ایلکس دووال سمتھ نے بتایا سویڈن کے 250 فوجی یہاں موجود ہیں جو اقوامِ متحدہ کی یہاں مقیم 10,000 فوج کا حصہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے قبل چاڈ کے فوجی بھی اقوامِ متحدہ کے راشن میں کمی پر احتجاج کر چکے ہیں۔

اخبار ڈیگنز نائی ہیٹرکے مطابق سویڈن کے فوجی اتنے دبلے پتلے ہوگئے ہیں کہ ان کی پسلیاں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

لفٹیننٹ کرنل سوینسن نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ اب سویڈن کے فوجیوں کا اپنا باورچی خانہ ہے اگرچہ سب کی خواہش ہے کہ انھیں مزید سبزیاں اور زیادہ پھل ملیں۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ وہ ٹمبکٹو میں ضرورت سے زیادہ خرید و فروخت نہ کریں جس سے عام شہریوں کی تازہ خوراک کی اشیا پر فرق پڑے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل مختلف ممالک کے فوجیوں کے حالات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ان میں زیادہ تر فوجی افریقہ سے ہیں جن کے رہن سہن اور خوراک کا معیار فرانس اور سویڈن کے فوجیوں سے کئی گنا کم ہے جو ایئرکنڈیشنڈ ٹینٹوں میں سوتے ہیں۔

اسی بارے میں