ترک ایران تعلقات کی بحالی کی نئی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption مبصرین اس بات سے متفق ہیں کہ اردوغان کے دورۂ ایران کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو واپس درست سمت کی جانب موڑنا ہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ ماہ جب ایران پر مشرقِ وسطیٰ میں تسلط قائم کرنے کا الزام عائد کیا تو یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان کا ایران کا طے شدہ دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ترکی کے صدر کے اس بیان پر تہران میں شدید ردِ عمل سامنے آیا اور چند رکنِ پارلیمان نے اردوغان سے باقاعدہ معافی مانگنے اور ان کا دورہ منسوخ کر دینے کا مطالبہ کر دیا۔

دونوں ممالک کے اخبارات نے اس تلخی کو ہضم کر لیا اور اب بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عملیت پسندی جیت گئی ہے۔

دونوں ممالک نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ سیاست کو ایک جانب رکھ کر تجارت اور کاروبار پر توجہ دیں۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے پر اتفاق کے بعد اس بات کی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے بعد سرحد پار تجارت کو بہت فروغ ملے گا۔

رجب طیب اردوغان کا ایران پہنچنے پر پرتباک استقبال کیا گیا۔ اردوغان نے ایران کے صدر حسن روحانی کے علاوہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اردوغان کی تہران آمد کے بعد ایران کے معروف اخبار ’شہروند‘نے اپنے صفحۂ اول پرکارٹون میں انھیں عثمانی ڈان کیہوٹے دکھایا گیا ہے

اردوغان کی تہران آمد کے بعد ایران کے معروف اخبار ’شہروند‘نے اپنے صفحۂ اول پرکارٹون میں انھیں عثمانی ڈان کیہوٹے کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بھول بھلیوں میں ڈگمگاتا پھر رہا ہے۔

ایران کے صدر عام طور پر مسکراتے اور پر سکون دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے تہران کے صدارتی محل میں اردوغان کا استقبال کیا تاہم اس وقت وہ سب رسمی طور پر کرتے دکھائی دیے۔

ایران اور ترکی کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک اپنے موقف پر مخالف سمت میں کھڑے ہیں۔

جہاں تک شام کا تعلق ہے، ایران شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کا حامی ہے جبکہ ترکی بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔

تہران اور انقرہ کے درمیان عراق اور یمن کی صورتِ حال پر بھی اختلافات موجود ہیں۔

ترکی نے یمن کی صورتِ حال پر ایران کے حریف سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے جو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ایران پر حوثی باغیوں کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی ایران سختی سے تردید کرتا ہے۔

ایران اور ترکی کے صدرو نے تہران میں ہونے والے ملاقات میں یمن کی صورتِ حال پر بات چیت کی تاہم وہ عوام کے سامنے یمن میں قتل و غارت کی فوری خاتمے کی خواہش کا اظہار کرتے نظر آئے۔

مبصرین اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ اردوغان کا دورۂ ایران دونوں ممالک کے خراب تعلقات کو درست سمت میں لے جانے کی کوشش ہے۔

ان کے مطابق یہ بات بالکل واضح ہے کہ دونوں ممالک کا محور معیشت کی جانب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی نے یمن کی صورتِ حال پر ایران کے حریف سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے جو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کر رہا ہے

ترکی کے مبصر سنان الگن کا کہنا ہے کہ اردوغان کا دورۂ تہران دونوں ممالک کے تعلقات کا نازک دور ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدہ ایران ترکی کے معاشی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم ہے کیوں کہ ترک بزنس کمیونٹی ایران میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہے۔

ایرانی پریس کے مطابق اردوغان کے دورے سے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے تعلقات کو مضبط کرنے میں مدد ملے گی۔

ایران اور ترکی اگلے مالی سال کے اختتام پر دو طرفہ تجارت کو 14 سے 30 ارب تک لے جانے کے خواہشمند ہیں۔

ایرانی اخبار ’شرق‘ کے مطابق اردوغان کے دورہ کا مقصد ایران سے سستی گیس کا حصول بھی ہے۔ اخبار نے ترکی کے صدر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی ایران سے مزید گیس خریدنے کا خواہشمند ہے۔

مبصرین اس بات سے متفق ہیں کہ اردوغان کے دورۂ ایران کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو واپس درست سمت کی جانب موڑنا ہے۔

اسی بارے میں