ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر امریکہ اور بھارت کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت ذکی الرحمن لکھوی کو سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے جن میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے

امریکی دفترِ خارجہ خارجہ اور بھارتی حکام نے ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمن لکھوی کو اڈیالہ جیل سے رہا کیے جانے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جیف راتھكے نے کہا ہے کہ امریکی حکومت گذشتہ کئی ماہ سے اس بارے میں اپنی تشویش پاکستان کے اعلی اہلکاروں کے سامنے رکھتا آیا ہے اور جمعرات کو بھی اس بارے میں ان کی پاکستان سے بات ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ ممبئی حملوں میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔‘

انھوں نے کہا، ’ہماری پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے وعدے پر عمل کریں جس سے ممبئی حملوں میں مارے گئے 166 بے گناہ لوگ جن میں چھ امریکی بھی تھے انہیں انصاف مل سکے۔‘

ادھر دہلی میں ایک حکومتی اہلکار کے مطابق ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی کے بعد اسلام آباد میں موجود بھارتی سفیر نے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کی اور انھیں بھارت کی گہری تشویش سے آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ ذکی الرحمن لکھوی کا نام امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری بین الاقوامی دہشت گردوں کی لسٹ میں بھی شامل ہیں۔

اسی ہفتے امریکی دفترِ خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کو تقریبا ایک ارب ڈالر کے ہیلی کاپٹر اور فوجی ساز وسامان فروخت پر اپنی رضامندی کا اعلان کیا تھا۔

صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا اب امریکہ کے فیصلے میں کوئی تبدیلی آئے گی، تو ترجمان کا کہنا تھا، ’ابھی اس معاملے کو چند گھنٹے ہوئے ہیں اور ہم اس پر غور کر رہے ہیں کہ اس کا کیا مطلب نکالا جائے۔ اس سے آگے فی الحال ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

بھارت ذکی الرحمن لکھوی کو سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے جن میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لكھوي کو گذشتہ برس دسمبر میں ضمانت ملی تھی، لیکن پنجاب حکومت نے ایک قانون کے تحت لکھوی کی نظر بندی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن لاہور ہائی کورٹ نے لکھوی کی نظر بندی کو غلط ٹھہرایا تھا اور ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

لکھوی کو پاکستان نے 7 دسمبر 2008 کو گرفتار کیا تھا پشاور کے اسکول پر ہوئے حملوں کے بعد پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ تمام شددت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور امریکہ نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اس میں حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسی تنظیموں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترجمان کا کہنا تھا، ’ابھی اس معاملے کو چند گھنٹے ہوئے ہیں اور ہم اس پر غور کر رہے ہیں کہ اس کا کیا مطلب نکالا جائے

اسی بارے میں