ہم جنس پرست سفیر پر ویٹیکن کی چُپ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس کے کیتھولک اخبار ’لا کرا‘ کے مطابق ویٹیکن نے فرانسیسی حکومت کو اشارہ دیا ہے کہ اسے کے لیے یہ تقرری قابلِ قبول نہیں

پاپائی حکومت یا ویٹیکن نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ اس نے فرانسیسی سفیر کو اس لیے قبول نہیں کیا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔

فرانسیسی حکومت نے اپنے سینیئر سفارت کار لارینٹ سٹیفاننی کو اس سال جنوری میں ویٹیکن کے لیے بطور سفیر تجویز کیا تھا۔ عام طور پر ایسے عہدوں کی منظوری ایک آدھ ماہ میں ہو جاتی ہے لیکن تین مہینے ہو گئے ہیں مگر ویٹیکن نے سفیر کے نام پر ایک طرح کی سفارتی چپ سادھ رکھی ہے۔

فرانس: ہم جنس پرست شادی کی اجازت

فرانس کے میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق فرانسیسی حکومت بھی اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس نے کسی اور سفیر کو ویٹیکن بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔

سنہ 2007 میں فرانس نے کھلے عام ایک ہم جنس پرست سفارت کار کو ویٹیکن میں اپنا سفیر نامزد کیا تھا لیکن کئی ماہ گزرنے کے بعد جب ویٹیکن نے اسی طرح خاموشی اختیار کیے رکھی، تو فرانس نے ایک دوسرے سفارت کار کو سفیر نامزد کیا تھا۔

فرانس کے کیتھولک اخبار ’لا کرا‘ کے مطابق ویٹیکن نے فرانسیسی حکومت کو اشارہ دیا ہے کہ اسے کے لیے یہ تقرری قابلِ قبول نہیں۔

سٹیفانینیکے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں اور سنہ 2001 سے سہ سنہ 2005 تک اٹلی کے دارالحکومت روم میں فرانس کے سفارت خانے میں کام کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پوپ بینیڈکٹ 16 نے سنہ 2005 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے کہ ایسےمرد جن میں ہم جنس پرستی کے گہرے رجحانات ہوں انھیں پادری نہیں ہونا چاہیے

پیرس میں فرانس کی وزارتِ خارجہ نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’سٹیفانینی ہمارے بہترین سفارت کاروں میں سے ایک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ویٹیکن کے لیے انھیں منتحب کیا ہے۔ ہم ویٹیکن کی جانب سے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ فرانس کے سفارت کار کے نام کا بظاہر مسترد کیا جانا ویٹیکن کی جانب سے شاید ان کے ہم جنس پرست ہونے کا جواب نہ ہو۔ ایک توجیہہ یہ بھی ہے کہ ویٹیکن کا کیتھولک چرچ فرانس سے اس وجہ سے ناخوش ہے کہ پیرس نے سنہ 2013 میں ہم جنس لوگوں کی شادی کو قانونی بنا دیا تھا۔

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اپنے پیش روؤں کے برخلاف پوپ فرانسس ہم جنس پرستی کے بارے میں نسبتاً برداشت کا رویہ رکھتے ہیں۔ یہ خیال ان کے اس جملے کے بعد پختہ ہوا ہے جب سنہ 2013 میں انھوں نے کہا تھا ’میں فیصلہ کرنے والا کون ہوتا ہوں؟‘

ان سے پہلے پوپ بینیڈکٹ 16 نے سنہ 2005 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے کہ ایسےمرد جن میں ہم جنس پرستی کے گہرے رجحانات ہوں انھیں پادری نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ہم جنس پرست پادریوں کو معاف کر دیا جانا چاہیے اور ان کے گناہ بھلا دیے جانے چاہیں۔

تاہم پچھلے سال انھیں اس وقت دھچکا لگا تھا جب کیتھولک چرچ کی نمائندہ مجلس نے ہم جنس پرست افراد کے قبولِ عام کے منصوبوں کو ترک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں