جرمنی پرانے ٹینک کو فعال بنا رہا ہے

لیپرڈ 2 ٹینک تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمن لیپرڈ 2 ٹینک اکتوبر میں ہونے والی فوجی مشقوں میں حصّہ لیتے ہوئے۔

جرمنی نے ایک سو ایسے ٹینکوں کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو چند برس سے اس کی فوج کے استعمال میں نہیں تھے۔ یہ فیصلہ یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ان ٹینکوں کو دفاعی اخراجات میں کٹوتی کی غرض سے دفاعی صنعت کو فروخت کر دیا گیا تھا۔

جرمن وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ دو کروڑ بیس لاکھ یورو کی لاگت سے اپنے ٹینکوں کی تعداد 328 تک لے جائے گی۔

نیٹو نے گزشتہ فروری میں یوکرین کے بحران اور مسلم انتہا پسندوں سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک سریع الحرکت فوج تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سلسلے میں نیٹو کے وزرائے دفاع نے اتحادی فوج کی تعداد بھی دگنی سے زیادہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ان اقدامات کو ایسے اشاروں سے تعبیر کیا جا رہا ہے جن کا مطلب ہے کہ کرائمیا پر روسی قبضے اور مشرقی یوکرین میں اس کی فوجی مداخلت کو نیٹو ایک وقتی بحران سے کہیں زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

جرمنی کی وزارت دفاع کے ترجمان ینس فلوسڈورف نے جرمن اخبار ڈیرشپیگل میں شائع ہونے والی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیپرڈ 2 نامی ایک سو فوجی ٹینکوں کو فوجی صنعت سے، جہاں ان ٹینکوں کو ذخیرہ کیا گیا تھا، واپس منگوایا جا رہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ لچک اور سرعت کے نئے اہداف کی خاطر جرمنی اپنی افواج کو مناسب سازوسامان سے لیس کرکے صحیح جگہ پر بروقت تعینات کرنے کی صلاحیت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

مسٹر فلوسڈورف کے بقول: ’ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب فوجی سازوسامان کی ملک کے ایک سے دوسرے حصہ میں منتقلی کی ضرورت ہی نہ رہے۔‘

ان ٹینکوں کی جدیدکاری کا عمل 2017 میں شروع ہوگا۔

یہ اقدام چار سال قبل کیے جانے والے فیصلہ کو واپس لینے کے مترادف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جرمنی اپنے ٹینکوں کی تعداد 350 سے گھٹا کر 225 کر دے گا۔