کاسترو سے ملاقات باہمی تعلقات میں’اہم موڑ‘: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ اور کیوبا کے تعلقات سنہ 1960 کی دہائی کے آغاز سے منجمد تھے جب کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد امریکہ نے اس سے سفارتی تعلقات ختم کر کے تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے پانامہ میں کیوبا کے صدر راؤل کاسترو سے ملاقات کی ہے۔ نصف صدی میں دونوں ممالک کےسربراہان کے درمیان یہ پہلے باضابطہ مذاکرات ہیں۔

براک اوباما نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ملاقات نہ صرف کیوبا بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات کے لیے ایک ’اہم موڑ‘ ثابت ہوسکتی ہے۔

سنیچر کو امریکی براعظموں کے ممالک کی سربراہی کانفرنس کی سائڈلائنز پر اوباما نے کاسترو کے ساتھ ملاقات کو ’صاف اور بامعنی‘ کہا۔

راؤل کاسترو نے براک اوباما سے ملاقات میں امریکہ کی جانب سے سنہ 1959 میں عائد کی جانے والی تجارتی پابندیاں ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔

میکسیکو اور وسطی امریکہ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار وِل گرانٹ کے مطابق دونوں جانب سے کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں تھا کہ حقیقی اقدامات کب اٹھائے جائیں گے مثلا کیوبا کو کب دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکالا جائے گا۔ یا پھر یہ کہ دونوں ممالک کب ایک دوسرے کے دارلحکومتوں میں اپنے سفارتخانے کھولیں گے۔

تاہم اس کے باوجود گرانٹ وِل سمجھتے ہیں کہ پاناما میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد امریکہ اور کیوبا کے صدور سابقہ سربراہان کے برعکس آگے بڑھیں گے۔

براک اوباما کا کہنا تھا ’یہ کچھ نیا کرنے کا وقت ہے اور امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کیوبا کی حکومت اور عوام کو براہ راست مشغول رکھے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ’دو پرانے دشمنوں کے درمیان اختلافات رہیں گے لیکن دونوں باہمی مفادات کے تحت پیش رفت کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برازیل کی صدر دیلما روزیف نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی

انھوں نے کہا ’ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم ایک دوسرے کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے شائستگی کے ساتھ اختلاف رکھ سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ ممکن ہے کہ ہم ورق پلٹیں اور دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم کریں۔‘

براک اوباما نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو نارمل کرنے کے لیے ہوانا میں امریکی جبکہ واشنگٹن ڈی سی میں کیوبا کا سفارت خانہ فوری طور پر کھولا جائے گا۔

’درگزر‘

اس موقع پر کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے کہا کہ دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے سے ’اختلاف رکھنے پر راضی ہیں۔‘

انھوں وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’ہم صبر کے ساتھ ہر چیز پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کسی بات پر ہم رضامند ہوں گے اور کسی پر نہیں۔‘

کیوبا کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے راستے پر پیش رفت کے لیے آمادہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ شمالی، جنوبی اور وسطی امریکی ممالک کا ساتواں سربراہی اجلاس ہے جس میں کیوبا پہلی بار شریک ہوا ہے

اس سے قبل کیوبا کے رہنما نے دونوں ممالک کے تعلقات کی لمبی تاریخ کے حوالے سے براک اوباما کو ’ ایمان دار شخص‘ قرار دیا۔

راؤل کاسترو کے مطابق ’جب میں انقلاب کی بات کرتا ہوں تو میں صدر اوباما سے معاف کر دینے کی بات کرتا ہوں کیونکہ وہ ماضی میں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔‘

ماضی میں کیوبا اور امریکہ کے اعلیٰ حکام سنہ 1959 میں ملے تھے جب فیدل کاسترو اور امریکہ کے نائب صدر رچرڈ نکسن کی ملاقات ہوئی تھی۔

اس ملاقات کے دو برس بعد فریقین نے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے اور اب گذشتہ برس ہی امریکہ کے موجودہ صدر براک اوباما نے باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولنے کی بات کی تھی۔

امریکہ اور کیوبا کے تعلقات سنہ 1960 کی دہائی کے آغاز سے منجمد تھے جب کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد امریکہ نے اس سے سفارتی تعلقات ختم کر کے تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیوبا کے بالمقابل وینزویلا کے ساتھ امریکی رشتے نا ہموار ہیں

جہاں کیوبا کے ساتھ رشتے استوار ہو رہے ہیں وہیں وینزویلا کے ساتھ رشتوں میں گذشتہ برسوں کے دوران تلخی آئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ چھ برسوں کے دوران سفارت کاروں کا تبادلہ نہیں ہوا تاہم دونوں کے درمیان کشیدگی گذشتہ ماہ اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ نے وینزویلا کے حکام کے ایک گروپ پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگاتے ہوئے پابندی عائد کردی جسے وینزویلا کے صدر نے ’نامناسب‘ قرار دیا تھا۔

صدر اوباما نے سربراہی اجلاس میں نیکولا مدورو کے ساتھ مختصر ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے نہ کہ اسے دھمکانے میں۔

وینزویلا نے اس کی تردید کی لیکن صدر کے مشیر کی جانب سے کیے گئے ایک ٹوئیٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں کی مختصر ملاقات کے دوران ’صداقت، تعظیم اور گرمجوشی تھی۔‘

اسی بارے میں