71 برس کی عمر میں دنیا کی مشکل ترین دوڑ مکمل کر لی

Sir Ranulph Fiennes تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سر رینلف فینس سرطان پر تحقیق کرنے والے ادارے میری کیوری کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں

سر رینلف فینس پہلے معمرترین برطانوی شہری ہیں جنہوں نے مراکش کے صحرائے دیس سیبلس میں منعقدہ میراتھن مکمل کر لی ہے۔

یہ کارنامہ انہوں نے 71 برس کی عمر میں جمعے کو برطانوی وقت کے مطابق شام سات بجکر سینتیس منٹ پر انجام دیا۔

ان کی صحت اور صحرائی ماحول دو ایسے چیلنج تھے جن کا انہوں نے بڑی ہمت سے مقابلہ کیا۔

انہوں نے چھ روز کے دوران 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ کے درجۂ حرارت میں 159 میل دوڑ کر طے کیے۔

جمعرات کے روز ایک موقع پر تو ایسا لگا کہ وہ جسمانی تھکاوٹ سے پیدا ہونے والی قلبی حالت کی وجہ سے خط اختتام تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

ان کی اس مہم کے نتیجہ میں سرطان پر کام کرنے والے رفاہی ادارے میری کیوری کے لیے دس لاکھ برطانوی پاؤنڈ سے زیادہ کے عطیات موصول ہوئے ہیں۔

یہ میراتھن دنیا کی مشکل ترین دوڑ سمجھی جاتی ہے۔

آخری روز انہوں نے دس میل کا سفر طے کیا۔ دوڑ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کہا: ’میری صحت اچھی نہیں ہے، میری کمر میں درد ہے۔ خوش قسمتی سے میرے پاس درد دور کرنے والی دوا بڑی مقدار میں موجود تھی، جس کے بغیر مجھے زیادہ مشکل درپیش ہو سکتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال تو انہیں کبھی نہیں آیا کہ وہ دوڑ مکمل کرنے سے قاصر رہیں گے، البتہ بعض مقامات پر پیچھے سے آنے والے اونٹوں سے انہیں خطرہ محسوس ہوا۔ یہ اونٹ دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کو رفتار بڑھانے پر مجبور کرنے کے لیے چلائے جاتے ہیں۔

سر فینس نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے رفاہی مقصد کے لیے عطیات دیے۔

انہیں ماضی میں دل کے دو دورے پڑ چکے ہیں اور 2003 میں ان کے دل کا دو مرتبہ بائی پاس ہوا تھا۔

میری کیوری کی چیف ایکزیکٹیو، ڈاکٹر جین کولِنس، نے سر فینس کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’ہم سر رینلف فینس کو بہت بہت مبارک باد دیتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی جسمانی اور ذہنی آزمائش تھی جس میں انہوں نے محض اپنے عزم سے کامیابی حاصل کی۔‘

سر فینس ماضی میں بھی اس رفاہی ادارے کے لیے تریسٹھ لاکھ برطانوی پاؤنڈ اکھٹا کر چکے ہیں۔

مئی 2009 میں انہوں نے 65 برس کی عمر میں کوہ ہمالیہ کی چوٹی ایورسٹ سر کی تھی اور یہ کارنامہ انجام دینے والے وہ معمرترین برطانوی بن گئے تھے۔