ترکی: سرکاری ٹی وی پر حکومت مخالف اشتہار پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ chp
Image caption اشتہار میں ووٹرز کو انتخابی ریلی میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی

ترکی میں حزب اختلاف کی ایک اہم جماعت نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن نے انتخابی مہم کے دوران ان کے ایک اشتہار پر پابندی عائد کر دی ہے جس میں حکومت کو براہ راست نشانہ بنایاگیا ہے۔

رپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی نے اپنے ’عہدے کا ناجائز‘ استعمال کیا ہے۔ انھوں نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اس سے قبل ٹی آر ٹی پر صدر طیب اردوغان اور ان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کےحق میں تعصب ظاہر کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

ترکی میں سات جون کو انتخابات منعقد ہوں گے۔

سی ایچ پی کی ویب سائٹ پر ترک زبان میں جاری ہونے والے بیان کے مطابق نائب رہنما بلند تیرچان نے کہا: ’اشتہار نشر نہ کرنے کے فیصلے سے ٹی آر ٹی نے ایک نیا سکینڈل پیدا کر دیا ہے۔‘

’تمام جمہوری ممالک میں سرکاری خرچ پر چلنے والے ٹی وی کا سب سے اہم مقصد نشریات میں شفافیت قائم رکھنا ہے۔ ٹی آر ٹی سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔‘

بلند تیزچان نے ٹی وی چینل کو دوبارہ یاد دہانی کروائی کہ یہ ’عوام کی ملکیت‘ ہے۔

تاحال ٹی آرٹی نے اس بارے میں اپنا موقف پیش نہیں کیا۔

حزب اختلاف کے اس اشتہار میں ’ہم بطور قوم قابل تعریف ہیں‘ کا نعرہ شامل ہے اور یہ ملک میں انصاف، آزادی اور سیکولرازم کے ’استحصال‘ پر تنقید کرتا ہے۔

اس میں ووٹرز کو سیاسی جماعت کی سنیچر کو ہونے والی پہلی بڑی انتخابی ریلی میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

اس تنازع سے قبل جمعرات کو انقرہ کی ایک عدالت نے سی ایچ پی کے رہنما کمال قلیچ داراوغلو کو سنہ 2013 میں ایک تقریر میں صدر اردوغان کی توہین کرنے کے مقدمے میں جرمانہ ادا کرنے حکم سنایا تھا۔

اسی بارے میں