عراق میں دولتِ اسلامیہ کا رمادی کے شمالی علاقوں پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صوبہ انبار کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے

عراق میں اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی قیادت میں تنظیم کے خلاف قائم اتحاد کے جنگی جہازوں نے پیش قدمی کو روکنے کے لیے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی ہے۔

رمادی میں دولت اسلامیہ کے حالیہ حملوں کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں عراقی شہر چھوڑ کر جارہے ہیں۔

گذشتہ موسم گرما میں ملک کے دیگر حصوں میں حملے کرنے سے قبل صوبہ انبار جہادیوں کا اہم مرکز رہا ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے رمادی شہر اس حوالے سے خاصا اہم رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ دنوں تکریت شہر سے دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم ہونے کے بعد وہ اپنی جنگی مہمات کا دوبارہ آغاز کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

گذشتہ چند دنوں میں دولت اسلامیہ نے دمادی کی جانب پیش قدمی کی اور ایسا بظاہر دکھائی دے رہا ہے کہ انھوں نے شہر کے شمالی حصوں پرقبضہ کر لیا ہے۔

دولت اسلامیہ نے بیجی میں ملک کی سب سے بڑے آئل ریفائنری پر بھی حملے کیے ہیں۔

اس سے قبل عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے صوبہ انبار کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے مشرق میں سکیورٹی فورسز دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کر رہی ہیں

عراقی وزیراعظم آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات میں ان سے جدید اسلحے کی فراہمی کی درخواست کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایک اعلیٰ عراقی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم حیدر العبادی امریکہ سے ادھار پر جنگی ہیلی کاپٹروں اور ڈرون طیاروں سمیت اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ مانگیں گے اور اس کی قیمت بعد میں ادا کرنے کا کہیں گے۔

عراق میں چند دن پہلے ہی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ دولتِ سالامیہ نے گذشتہ سال جون میں اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔

اس صوبے کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں