جوہانسبرگ: گاندھی کے مجسمے کو خراب کرنے کی کوشش

گاندھی جی تصویر کے کاپی رائٹ NRIFM. VIJAY RANA
Image caption جنوبی افریقہ کے کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ گاندھی سیاہ فاموں کو انڈین سے کم تر سمجھتے تھے

جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کی ایک عدالت میں ایک شخص پر شہر میں نصب مہاتما گاندھی کے مجسمے کو خراب کرنے کا مقدمہ چل رہا ہے۔

پولیس کے ترجمان مخوبیلے نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اس شخص کو گرفتار کیا گیا اس وقت وہ مجسمے پر سفید پینٹ کر رہا تھا۔

وہ سنیچر کو مجسمے کے سامنے احتجاج کرنے والے اس گروہ کا حصہ تھا جس نے ’نسل پرست گاندھی کو گرنا چاہیے‘ جیسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

یہ جنوبی افریقہ میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس میں تاریخی مجسموں کو ہٹانے کا کہا جا رہا ہے۔

اگرچہ گاندھی کو ایک امن پسند انسان سمجھا جاتا ہے لیکن بہت سے جنوبی افریقی گاندھی پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے ساتھ مل کر نسلی علیحدگی کو بڑھاوا دیا تھا۔

وہ جنوبی افریقہ میں 20 برس رہے اور انڈین لوگوں کے حقوق کے لیے مہم چلاتے رہے۔

احتجاج کرنے والے افراد نے برسرِ اقتدار جماعت افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھیں لیکن اے این سی نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مجسمے کو خراب کرنے کی مذمت کی ہے۔

عدالت نے 21 سالہ مولیز میل کو 8 مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ اپنے اوپر بدنیتی سے پراپرٹی کو تباہ کرنے کے الزام کا جواب دیں سکے۔

جنوبی افریقہ کے سوشل میڈیا پر ہیشٹیگ Ghandimustfall # بہت گردش کر رہا ہے۔

ٹوئٹر استعمال کرنے والے ان مضامین کا حوالہ دے رہے ہیں جن میں گاندھی نے بطور نتال انڈین کانگریس کے سربراہ کے کہا تھا کہ انڈین سیاہ فاموں سے اعلیٰ ہیں اور نوآبادیاتی حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کو ڈربن کے ڈاک خانے میں گھسنے کے لیے علیحدہ دروازہ دیا جائے۔ اس سے پہلے انڈین وہی دروازہ استعمال کرتے تھے جو سیاہ فاموں کے لیے مختص تھا۔

گذشتہ ہفتے برطانوی استعماریت پسند سیسل جون روہڈز کے مجسمے کو بھی کیپ ٹاؤن کی یونیورسٹی سے طلبہ کے احتجاج کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں