لینن چلے جاؤ، یوکرین ماضی بھولنا چاہتا ہے

لینن کا مجسمہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوکرین کے شہر ویلیکا نووسلکا میں مظاہرین نے لینن کے مجسمے پر یوکرین کے پرچم کے رنگ کر دیے تھے

یوکرین کی پارلیمان نے ملک میں کمیونسٹ علامتوں پر پابندی لگا دی ہے۔ لیکن اس کا ایسے ملک میں کیا مطلب ہے جس کے ہر دوسرے شہر میں لینن نامی سڑک موجود ہے۔

لینن ایوینیو (شاہراہ)یوکرین کے صنعتی شہر زاپوریزیا میں ایک اہم سڑک ہے۔ ایوینیو کے شروع میں لینن سکوائر ہے جس میں روسی انقلابی رہنما کا مجسمہ ہے۔

وہ اس کے ڈیم کی طرف اشارہ کر رہا جو لینن کے نام پر ہی ہے اور اس کی ایک دیوار پر آرڈر آف لینن کا تمغہ بھی بنایا گیا ہے۔

ڈیم کے پیچھے لینن نامی جھیل ہے جس کے وسط میں لینن جزیرہ ہے اور یہ سب کچھ شہر کی لینن ڈسٹرکٹ میں ہے۔

اور یہ وہ وراثت ہے جس سے یوکرین کے قانون ساز چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

نو اپریل کو انھوں نے کمیونسٹ پروپیگنڈا اور نازی علامات پر پابندی کا بل پاس کیا تھا۔ اس پابندی کا اطلاق یادگاروں، جگہوں اور گلیوں کے ناموں پر ہوتا ہے، اور جس کے تحت صدر کے اس بل پر دستخط کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر ان کے نام بدل دیے جائیں گے۔

سینکڑوں مجسمے ہٹانے پڑیں گے، لاکھوں گلیوں کے نام بدلے جائیں گے اور ٹنوں کاغذی کارروائی کرنا پڑے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کے لیے بہت رقم درکار ہو گی اور جنگ کی حالت میں یوکرین کے لیے ایسا کرنا مشکل ہو گا، لیکن اس کے حمایتی کہتے ہیں کہ یوکرین کے مُطلق العنانی کے ماضی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہ قیمت تو ادا کرنا ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زاپوریزیا میں بھی کمیونسٹ رہنما کے مجسمے کو یوکرین کی روایتی سفید قمیض پہنا دی گئی

زاپوریزیا کے میئر ایلیگزنڈر سن کہتے ہیں کہ ’(جگہوں کو) نیا نام دینا ایک ایسا عنصر تھا جو عدم استحکام لا سکتا ہے اور پارلیمان نے اس پر فیصلہ کر کے اسے ہماری سطح سے ہٹا دیا ہے۔‘

اس پابندی کی زد میں دوسری جنگِ عظیم کی یادگاریں نہیں آئیں گی، جیسا کہ کیف میں مدرلینڈ مجسمہ۔ تاہم اس پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ پابندی سے یوکرین میں سیاسی اختلاف مزید گہرے ہو جائیں گے۔

کیف کے ایک اخبار کے مطابق اس طرح کے قوانین سے تناؤ مزید بڑھ جائے گا۔ ہمارے معاشرے کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔‘

1991 میں یوکرین کی آزادی کے بعد یونین کونسلوں نے کئی کمیونسٹ نام تبدیل کر دیے تھے۔

اس کے بعد صدر وکٹر یانوکوچ کو اقتدار سے ہٹائے جانے اور روس کی حمایت یافتہ شدت پسندی کے نتیجے میں پورے ملک میں لینن کے مجسموں پر حملے کیے گئے۔

لیکن سویت ورثہ باقی ہے، خاص کر ملک کے مشرقی حصوں میں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ستمبر 2014 میں خارکیو شہر میں لینن کے مجسمے کو گرا دیا گیا تھا

کئی قصبوں اور شہروں کے نام بھی بدلنے پڑیں گے۔ جیسا کہ دنیپروپیتروسک جو کہ زاپوریزیا سے شمال میں ہے۔ اس کا نام انقلابی کمیونسٹ رہنما گریگوری پیتراؤسکی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

دنیپروپیتروسککی سٹی کونسل ایک سینیئر رہنما ویدم شیباناؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ نیا نام رکھنے کے لیے ایک کمیشن پہلے ہی تشکیل دیا جا چکا ہے۔

شہر کے ماضی کے نام کی طرف جانا بھی کوئی حل نہیں ہے۔ 1926 سے پہلے اسکا نام ایکاٹیرینوسلاو تھا جو کہ 18 صدی کی روسی حکمراں ایکٹیرینا (کیتھرین) دی گریٹ تھیں اور جنھوں نے کوساک تحریک کو ختم کیا تھا۔

لیکن سویت علامات باغیوں کے قبضے کے شہر دونیتسک میں بہت مشہور ہیں۔ ریاستی کنٹرول والے روسیا۔1 ٹی وی نے 9 اپریل کو اپنی نشریات میں کہا تھا کہ ’ملک کے رہنماؤں نے کمیونسٹ علامات پر پابندی لگا کر اپنے ہی ماضی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے اور ہٹلر کے حواریوں کو ہیرو بنا دیا ہے۔‘ تاہم اس نے بات کا ذکر نہیں کیا کہ پارلیمان نے نازی علامات پر بھی پابندی لگائی ہے۔

روس کے لیے کمیونسٹ مخالف اقدامات نئی بات نہیں۔ اس نے 1991 میں صدر میخائل گورباچوف کے اقتدار کے خاتمے کی ناکام کوشش کے بعد سویت کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی تھی۔

کئی روسی شہروں کے نام 1917 کے بولشوک انقلاب سے پہلے والے ناموں میں تبدیل کر دیے گئے۔ لیننگراڈ سینٹ پیٹرزبرگ بن گیا، سورڈلاؤسک بنا یکاٹیرنبرگ اور گورکی کا نام نزنی نوؤگوروڈ رکھ دیا گیا۔

اسی طرح سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی کئی اس کی کئی سابقہ جمہوریتوں نے کمیونسٹ علامات پر پابندی لگا دی تھی۔

اسی بارے میں