عراقی شہریوں کی ہلاکت میں ملوث بلیک واٹر کے سابقہ گارڈ کو عمر قید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی شہریوں کے قتل کا یہ واقعہ 2007 میں پیش آیا تھا

سیکورٹی فراہم کرنے والی امریکی کمپنی بلیک واٹر کے ایک سابق گارڈ کو 14 عراقی شہریوں کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت نے بلیک واٹر کے ایک سابق گارڈ نکولس سلاٹن کو عمر قید جبکہ پال سلاو، ایوین لبرٹی اور ڈسٹن ہرڈ کو 30، 30 سال قید کی سزا سنائی۔

سلاٹن اور تین دیگر افراد کو گذشتہ سال 14 عراقیوں کے قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 2007 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے نسور چوک پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 14 عراقی شہری ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب بلیک واٹر کے نجی سکیورٹی كنٹریكٹروں نے ایک امریکی قافلے کا راستہ صاف کرنے کے لیے گولیاں چلائیں۔ اس فائرنگ کے واقعے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوئی تھی اور جنگ میں سیکورٹی كنٹریكٹروں کے کردار پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

سلاٹن پر قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا جبکہ دوسرے افراد پر کئی طرح کے الزامات تھے جن میں انسان کا ذبح کرنا، ذبح کرنے کی کوشش، اور سنگین جرم کرتے ہوئے فائرنگ کے الزامات تھے۔

ان گارڈز نے یہ دعوی کیا تھا کہ باغیوں نے ان پر گولیاں چلائی تھیں لیکن استغاثہ نے کامیابی کے ساتھ یہ دلیل پیش کہ ان لوگوں نے بغیر کسی اشتعال کے عام شہریوں پر گولیاں چلائی تھیں۔

ان ملزمان کے وکیل نے سزا میں نرمی برتنے کی اپیل کی تھی جو کہ قبول نہیں کی گئی۔

استغاثہ نے اس کے برعکس سخت سے سخت سزا کی تجویز پیش کی کیونکہ ان سابق گارڈز نے کسی بھی موقعے پر ندامت یا پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔

لیکن امریکی ضلعی عدالت کے جج رائس لیمبرتھ نے دونوں طرح کی اپیلوں کو مسترد کر دیا۔

جج نے کہا: ’جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میرے خیال سے یہ سزا زیادہ نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے لیے بہت سے متاثرین اور شاہدین کو عراق سے امریکہ لایا گیا تھا۔

ان میں سے ایک محمد کنعانی الرزاق ہیں جن کا نو سالہ لڑکا علی اس حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ’ان مجرموں اور دہشت گردوں میں کیا فرق ہے؟‘

اسی بارے میں